منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی کے عوام بھی کشمیری بھائیوں کے کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے ہوگئے،ایسا زبردست کام کردیا کہ بھارتی منہ دکھانے کے لائق نہ رہے

datetime 24  اگست‬‮  2019 |

انقرہ (این این آئی)ترکی کی غیر سرکاری تنظیموں کے ارکان نے دارلحکومت انقرہ میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے جمع ہو کر کشمیریوں کے حق میں مظاہرہ کیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مظاہرین نے پلے کارڑز اٹھا رکھے تھے۔

جن پر ’’کشمیری آزادی چاہتے ہیں‘‘ اور ’’کشمیریوں کو اپنے مستقل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا چاہیے‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ ’’ ایناتولین یوتھ ایسوسی ایشن ‘‘نامی تنظیم کے چیئرمین Ahmet Sanverنے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرپر بھارت نے قبضہ کر رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ بھارت نے نہیں بلکہ کشمیریوں نے خود کرنا ہے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ نے قراردادیں بھی پاس کر رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کے ناقابل قبول اقدامات اور فیصلوں کی وجہ سے خطے میں جنگ کا امکان پید ا ہو چکا ہے۔ دریں اثنا ترکی کی مختلف این جی اوز نے ایک بیان میں کشمیر پر ایک بڑی جنگ کا امکان ظاہر کیا ہے۔ بیان میں مذاکراتی راستے کھلے رکھنے پر زور دیتے ہوئے بھارت اور پاکستان سے کہا گیا کہ وہ جنگ سے گریز کریں ۔ بیان میں مزید کہاگیا کہ بھارت کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ترکی کے شہر استنبول میں قائم بھارتی کونسل خانے کے سامنے بھی اسی طرح کا ایک مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرین نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے جھنڈے لہرائے اور کشمیر کی آزادی کے نعرے لگائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…