جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

جرمن کمپنی میں پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے والے پاکستانی کی ملک بدری کے احکامات کمپنی بھی خاموش نہ بیٹھی ، فیس بک پر جذباتی تحریر پوسٹ ،50ہزارافرادنے شیئربھی کردیا

datetime 22  اگست‬‮  2019 |

برلن(این این آئی)جرمن کمپنی میں پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے والے ایک پاکستانی پناہ گزین کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے لیکن کمپنی کے مالکان کی فیس بک پر جذباتی تحریر کی وجہ سے شاید زیر تربیت نوجوان کو جرمنی سے ملک بدر نہ کیا جائے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک پاکستانی پناہ گزین انیس نے

خود کو جرمنی میں ضم کرنے کے لیے یہ تمام کوششیں کر دیں لیکن پھر بھی ان کو جرمنی سے ملک بدری کا خطرہ لاحق ہے۔ پاکستانی پناہ گزین انیس یکم ستمبر 2017ء سے این ایف سی ماہلر نامی ایک ٹرک ساز ادارے میں میکاٹرونکس کے شعبے میں ووکیشنل ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں۔ ان کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہو چکی تھی اور رواں ماہ 14 اگست کو متعلقہ حکام کی جانب سے ملک بدری کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے۔این ایف سی ماہلر کے مالکان کو جب اس بات کی خبر ملی تو انہوں نے اس حوالے سے اپنا رد عمل ادارے کے فیس بک پیج پر ایک جذباتی تحریر کی شکل میں پیش کیا۔ اس پوسٹ میں مالکان نے لکھا کہ ہم حیران و پریشان ہیں، افسردہ ہیں اور غصے میں بھی ہیں، ہم عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ہر ممکن قانونی کارروائی کرنے میں انیس کی مدد کریں گے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر یہ پوسٹ وائرل ہو گئی اور پچاس ہزار سے زائد صارفین نے اس کو شیئر بھی کیا۔ فیس بک پر یہ ایک بحث کا موضوع بن گیا اور اس پوسٹ پر بارہ ہزار سے زائد صارفین نے کمنٹس کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…