تہران کی جانب سے مار گرایا جانیوالا امریکی ڈرون ایرانی فضائی حدود میں تھا، روس نے ایران کے موقف کی حمایت کردی،امریکہ کو بڑا سرپرائز

  منگل‬‮ 25 جون‬‮ 2019  |  22:15

ماسکو(آن لائن)تہران کی جانب سے گزشتہ ہفتے مارگرایا جانیوالا امریکی ڈرون ایرانی فضائی حدود میں تھا، یہ بات روس کی قومی سلامتی کے سربراہ نے امریکہ کی جانب سے اس کے برعکس دعوؤں کے باوجود منگل کے روز کہی۔روسی خبررساں اداروں نے نیکولائی پیڈروشیف کی یروشلم میں صحافیوں کی گفتگوکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے روسی فیڈریشن کی وزارت دفاع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ یہ ڈرون ایرانی فضائی حدود میں تھا۔پیٹرو شیف امریکی و اسرائیلی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لئے یروشلم میں ہیں جیسا کہ 19جون کو ایران کی جانب سے ایک امریکی جاسوس طیارہ مار


گرانے کے بعد سے کشیدگی بڑھ چکی ہے اور امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے جوابی حملے کیلئے پہلے غورکیا اور پھر ارادہ ملتوی کردیا۔ایران کا اصرار ہے کہ ڈرون طیارے نے آبنائے ہرمز کے نزدیک ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تاہم پینٹاگون اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ ایرانی حدود میں داخل ہوا تھا۔


زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎