جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بھارت نے مسلمانوں پر ظلم کی کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ہندوانہ نعرہ نہ لگانے پر مسلمان استاد کیساتھ افسوسناک سلوک کر دیا

datetime 25  جون‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئی دہلی (آن لائن) بھارت میں مسلمانوں سے ہندوآنہ نعرے لگوانے اور انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کا نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے لیکن تاحال اس ضمن میں مرکزی یا ریاستی حکومتوں کی جانب سے راست اقدامات سامنے نہیں آئے ہیں جس کی وجہ سے جہاں انتہا پسند جنونی ہندوؤں کے حوصلے بڑھ رہے ہیں تو وہیں اقلیتیں بالعموم اور مسلمان بالخصوص شدید احساس عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں۔

مغربی بنگال میں شرپسند ہندوؤں نے چلتی ٹرین سے ایک مدرسے کے معلم کو صرف اس لیے دھکا دے کر ’مبینہ‘ طور پر قتل کرنے کی کوشش کی کہ انہوں نے ’جے شری رام‘ کا ہندوآنہ نعرہ لگانے سے انکار کردیا تھا۔جنونیوں نے ہندوآنہ نعرے لگوائے اور شمس تبریز کی جان لے لی بسنتی کے رہائشی 26 سالہ حافظ محمد ساہ رخ ہلدار نے بھارتی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ گزشتہ روزان سے دوران سفر ٹرین میں سوارمسافروں نے مطالبہ کیا کہ وہ جے شری رام کا ہندوآنہ نعرے لگائیں لیکن جب انہوں نے انکار کیا تو انہیں چلتی ٹرین سے دھکا دے کر نیچے پھینک دیا البتہ اس سے قبل انہیں مارا پیٹا اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔مدرسے میں استاد کے فرائض سر انجام دینے والے حافظ محمد ساہ رخ کے مطابق ٹرین میں موجود افراد خود نعرے لگارہے تھے اور خواہش مند تھے کہ میں بھی ان کا ساتھ دوں جس سے میں نے انکارکیا۔ متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ ٹرین میں سے کسی نے تشدد کا نشانہ بنتے مسلمان نوجوان کی مدد نہیں کی البتہ جب وہ ٹرین سے گرے تو وہاں قریب موجود گاؤں کے افراد نے ان کی مدد کی۔چلتی ٹرین سے گرنے کے سبب انہیں زخم آئے ہیں۔ بھارتی اخبار کے مطابق کولکتہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ابھی واقعہ کی ’تصدیق‘ کررہی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بھارتی پولیس نے جھار کھنڈ میں پیش آنے والے انسانیت سوز واقعہ پر بھی یہی مؤقف اپنایا تھا کہ وہ شمس تبریز کے ساتھ پیش آنے والے سانحہ کی تصدیق کررہی ہے جب کہ اس پر جان لیوا انسانیت سوز تشدد کی وڈیو وائرل ہوچکی تھی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…