پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی جیل میں مسلمان قیدیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ہندو قیدیوں کا روزہ

datetime 15  مئی‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)دہلی کی تہاڑ جیل میں تقریباً ایک سو 50 ہندو قیدیوں نے اپنے ساتھی مسلمانوں قیدیوں کے ساتھ ’روزہ‘ رکھ کر اظہار یکجہتی کیا۔ہندوستان ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق جیل افسر نے بتایا کہ ہرسال ہندو قیدیوں میں روزہ رکھنے کے رحجان میں اضافہ ہورہا ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ گزشتہ برس تقریباً 59 ہندو قیدیوں نے ماہ رمضان میں روزے کے اوقات میں خود کو کھانے پینے سے دور رکھا۔رپورٹ کے مطابق تہاڑ کی مختلف جیلوں میں تقریباً 16 ہزار 665 قیدی موجود ہیں جس میں سے تقریباً 2 ہزار 658 ہندو اور مسلمان قیدیوں نے روزہ رکھا۔انہوں نے بتایا کہ جیل حکام کی جانب سے مذکورہ قیدیوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تاہم گزشتہ برس کے مقابلے میں ہندو قیدیوں میں روزہ رکھنے کے رحجان میں 3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔جیل افسر نے بتایا کہ ہندو قیدیوں نے مسلمان قیدیوں کے ساتھ روزہ رکھنے کی مختلف وجوہات بیان کیں۔ان کا کہنا تھا کہ بیشتر ہندو قیدیوں نے موقف اختیار کیا کہ وہ اپنے مسلمان دوست قیدی سے اظہار یکجہتی کی بنیاد پر روزہ رکھتے ہیں۔جیل حکام نے بتایا کہ ہمارے مشاہدے میں ہے کہ 80 سے 90 فیصد قیدی جیل میں مذہبی رحجات کے حامل ہورہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بعض قیدیوں نے اس امر پر یقین کا اظہار کیا کہ اگر وہ خدا کو خوش رکھیں گے تو جلد رہائی مل سکتی ہے۔اس ضمن میں ان کا کہنا تھا کہ چند قیدیوں نے مذہب کو سکون حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔جیل حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسی طرح ہر سال ہندوؤں کے مذہبی تہوار نوراتری میں مسلمان قیدیوں کی بڑی تعداد اظہار یکجہتی کی بنیاد پر خود کو کھانے پینے سے دور رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ عمل صرف تہاڑ جیل میں نہیں بلکہ دیگر جیلوں میں بھی دیکھنے میں ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…