منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

تارکین وطن کو قانونی طریقے سے جرمنی لانے کی حکومتی پالیسی کا اعلان کردیاگیا

datetime 28  اپریل‬‮  2019 |

برلن(این این آئی)مہاجرین کے حوالے سے جرمنی نے ایسی پالیسی اختیار کی ہے، جس کے تحت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قانونی طریقے سے تارکین وطن کو ملک میں لا کر آباد کیا جا رہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران جرمنی میں کوٹہ سسٹم آبادکاری کے تحت لائے گئے مہاجرین کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ جرمنی لائے گئے ان مہاجرین کو ری سیٹلمنٹ مہاجرین کا درجہ دیا جاتا ہے۔

جرمن حکومت کے اس پروگرام کے تحت بحران زدہ علاقوں سے تحفظ کے حقدار افراد کو براہ راست جرمنی لا کر آباد کیا جاتا ہے۔ ایسے پروگرام برلن حکومت کی پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔مصر میں یو این ایچ سی آر  کے رجسٹریشن آفیسر نوربرٹ ٹروزین بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں، یورپی یونین اور دنیا میں جرمنی اس حوالے سے آگے ہے۔ جرمنی کی اس پالیسی میں تبدیلی کی ایک وجہ یورپی کمیشن کا وہ مطالبہ بھی ہے، جو اس نے ستمبر دو ہزار سترہ میں کیا تھا۔یورپی کمیشن نے اپنے رکن ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورپی یونین کے ری سیٹلمنٹ پروگرامز کے تحت سن دو ہزار اٹھارہ اور سن دو ہزار انیس میں کم از کم 50 ہزار تارکین وطن کو قبول کریں۔جرمنی نے یورپی کمیشن کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آبادکاری کے مطالبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے دو برسوں میں دس ہزار دو سو مہاجرین کو قانونی طریقے سے جرمنی لانے کا فیصلہ کیا تھا۔وفاقی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان سٹیو آلٹر کا ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاکہ قانونی طریقے سے آبادکاری مائیگریشن پالیسی کا ایک اہم عنصر ہے۔ ترجمان سٹیو آلٹر  کا مزید کہنا تھا کہ اس کا مقصد انسانی اسمگلروں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے تاکہ غیرقانونی تارکین وطن کی آمد میں کمی لائی جا سکے لیکن اس کے ساتھ ساتھ تحفظ کے ضرورت مند افراد کو جرمنی تک قانونی راستہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔آبادکاری کے ہی ایک پروگرام کے تحت

جرمنی نے سن دو ہزار بارہ اور سن دو ہزار چودہ میں تین سو تارکین وطن کو قبول کیا تھا لیکن سن دو ہزار سترہ میں جرمنی اپنی امیگریشن پالیسی میں واضح تبدیلی لایا تھا اور برلن حکومت نے سالانہ بنیادوں پر بحران زدہ علاقوں سے لائے جانے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ کر دیا تھا۔تحفظ کے ضرورت مند افراد کی آبادکاری کا یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ یو این ایچ سی آر  کے رجسٹریشن آفیسر نوربرٹ ٹروزین کے مطابق  ای یو۔ ترکی ڈیل مستقبل میں جرمنی کی امیگریشن پالیسی کا بلیو پرنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…