جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

تارکین وطن کو قانونی طریقے سے جرمنی لانے کی حکومتی پالیسی کا اعلان کردیاگیا

datetime 28  اپریل‬‮  2019 |

برلن(این این آئی)مہاجرین کے حوالے سے جرمنی نے ایسی پالیسی اختیار کی ہے، جس کے تحت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قانونی طریقے سے تارکین وطن کو ملک میں لا کر آباد کیا جا رہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران جرمنی میں کوٹہ سسٹم آبادکاری کے تحت لائے گئے مہاجرین کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ جرمنی لائے گئے ان مہاجرین کو ری سیٹلمنٹ مہاجرین کا درجہ دیا جاتا ہے۔

جرمن حکومت کے اس پروگرام کے تحت بحران زدہ علاقوں سے تحفظ کے حقدار افراد کو براہ راست جرمنی لا کر آباد کیا جاتا ہے۔ ایسے پروگرام برلن حکومت کی پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔مصر میں یو این ایچ سی آر  کے رجسٹریشن آفیسر نوربرٹ ٹروزین بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں، یورپی یونین اور دنیا میں جرمنی اس حوالے سے آگے ہے۔ جرمنی کی اس پالیسی میں تبدیلی کی ایک وجہ یورپی کمیشن کا وہ مطالبہ بھی ہے، جو اس نے ستمبر دو ہزار سترہ میں کیا تھا۔یورپی کمیشن نے اپنے رکن ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورپی یونین کے ری سیٹلمنٹ پروگرامز کے تحت سن دو ہزار اٹھارہ اور سن دو ہزار انیس میں کم از کم 50 ہزار تارکین وطن کو قبول کریں۔جرمنی نے یورپی کمیشن کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آبادکاری کے مطالبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے دو برسوں میں دس ہزار دو سو مہاجرین کو قانونی طریقے سے جرمنی لانے کا فیصلہ کیا تھا۔وفاقی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان سٹیو آلٹر کا ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاکہ قانونی طریقے سے آبادکاری مائیگریشن پالیسی کا ایک اہم عنصر ہے۔ ترجمان سٹیو آلٹر  کا مزید کہنا تھا کہ اس کا مقصد انسانی اسمگلروں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے تاکہ غیرقانونی تارکین وطن کی آمد میں کمی لائی جا سکے لیکن اس کے ساتھ ساتھ تحفظ کے ضرورت مند افراد کو جرمنی تک قانونی راستہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔آبادکاری کے ہی ایک پروگرام کے تحت

جرمنی نے سن دو ہزار بارہ اور سن دو ہزار چودہ میں تین سو تارکین وطن کو قبول کیا تھا لیکن سن دو ہزار سترہ میں جرمنی اپنی امیگریشن پالیسی میں واضح تبدیلی لایا تھا اور برلن حکومت نے سالانہ بنیادوں پر بحران زدہ علاقوں سے لائے جانے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ کر دیا تھا۔تحفظ کے ضرورت مند افراد کی آبادکاری کا یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ یو این ایچ سی آر  کے رجسٹریشن آفیسر نوربرٹ ٹروزین کے مطابق  ای یو۔ ترکی ڈیل مستقبل میں جرمنی کی امیگریشن پالیسی کا بلیو پرنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…