جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

فاروق عبد اللہ نے بھی پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر حملے میں 40 اہلکاروں کی ہلاکت پر شک کا اظہار کر دیا ، بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی 

datetime 30  مارچ‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)نیشنل کانفرنس کے صدر اور مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے 14 فروری کو پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر ہونے والے حملے میں 40 اہلکاروں کی ہلاکت پر شک کا اظہار کر دیا ہے

جس سے پورے ہندوستان میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔بھارتی نجی ٹی وی کے مطابق نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈین وزیر اعظم نریندرا مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی حالیہ پالیسوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ کتنے سپاہی ہندستان کے مارے گئے چھتیس گڑھ میں؟ کیا کبھی مودی جی وہاں پھول چڑھانے کیلئے گئے؟ کیا کبھی انہوں نے اْن کے خاندانوں سے ہمدردی ظاہر کی۔؟ یا جتنے سپاہی یہاں مرے ان کیلئے کچھ کہا؟ وہ 40 لوگ سی آر پی ایف کے مارے گئے اس کا بھی مجھے شک ہے؟۔ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ میزائل جو اْس نے سٹیلائٹ کو مارنے کیلئے چھوڑا وہ منموہن سنگھ نے تیار کرایا تھا،آج الیکشن تھا، دکھانے کیلئے ہنومان جی تشریف لائے ہیں،اْس نے بٹن دبایا اور ایک بٹن غلط دب گیا جس سے ائیر فورس کا ہیلی کاپٹر گر گیا اور ہمارے 6 جوان مارے گئے نیشنل کانفرنس کے صدر اور مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے 14 فروری کو پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر ہونے والے حملے میں 40 اہلکاروں کی ہلاکت پر شک کا اظہار کر دیا ہے جس سے پورے ہندوستان میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…