امریکی رپورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کردیا

  اتوار‬‮ 17 مارچ‬‮ 2019  |  17:20

واشنگٹن(این این آئی)انسانی حقوق کے حوالے سے امریکہ کی سالانہ رپورٹ میں جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ،علاقے میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی بین الاقوامی تحقیقات پر زوردیا گیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امریکہ کے محکمہ خارجہ کی 2018ء کی سالانہ رپورٹ میں انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جولائی 2016ء سے مارچ2017ء تک بھارتی فورسز کے ہاتھوں 145عام شہری مارے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ 2018ء کے دوران انسانی


حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیمیں بھارتی فورسزکی طرف سے احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے پیلٹ گنز کے استعمال پر شدید تشویش کااظہارکرتی رہیں جبکہ سرکاری ذرائع کے مطابق جولائی 2016سے اگست2017ء تک پیلٹ گن کے زخموں سے 17افراد جاں بحق ہو گئے۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق کٹھ پتلی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ جولائی 2016ء سے فروری 2017ء تک پیلٹ گن کے استعمال سے 6, 221افراد زخمی ہوگئے ۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ جموں وکشمیر میں نافذ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قابض انتظامیہ بغیر کسی الزام یا عدالتی کارروائی کے ایک شخص کو دو سال تک نظربند کرسکتی ہے اور اس دوران اس کے اہلخانہ کو اسے ملنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔ رپورٹ میں قابض انتظامیہ کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا جس کے مطابق مارچ 2016ء سے اگست2017ء تک پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایک ہزار افراد کو نظربند کیا گیا ہے۔بھارت نے کشمیر میں کالا قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ بھی نافذ کررکھا ہے اور قابض انتظامیہ امن وامان برقرار رکھنے کے نام پر کسی بھی شخص کوشک کی بنیاد پر گرفتاراور نظربند کرنے کے لیے اس کا بے دریغ استعمال کررہی ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کی منسوخی عوامی کا پرزورمطالبہ ہے۔رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کامن ویلتھ ہیومن رائٹس انشیٹیونے 2016ء کی اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ 2012ء سے 2016ء تک بھارت کی مختلف ریاستوں میں آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت مسلح فورسز کے خلاف 186شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 49.5فیصد جموں وکشمیر سے تھیں۔ امریکی رپورٹ میں کہاگیا کہ کشمیر کی قابض انتظامیہ نے جولائی 2016ء سے فروری 2017تک 9ہزار 42مظاہرین کے زخمی اور51کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ میں آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کو منسوخ کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی بین الاقوامی تحقیقات پر زوردیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کیا گیا کہ2018ء میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں لوگوں کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں ۔ ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس ایپئرڈ پرسنز نے لاپتہ ہونے والے639افرادکی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پولیس پر لاپتہ افراد کی گمشدگی کی رپورٹ درج نہ کرنے کے الزامات ہیں جس کی وجہ سے گمشدگی کے سینکڑوں کیس حل نہیں ہوپار ہے ہیں اور جیل حکام نظربند افراد کے لواحقین سے ان کی نظربندی کی تصدیق کے لیے رشوت طلب کرتے ہیں۔ پولیس کی طرف سے قیدیوں پر تشدد کی وجہ سے حراستی ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں۔ 2اگست 2018ء کو طالب حسین نامی کارکن پر سانبہ پولیس نے تشدد کیا جس کی وجہ سے اس کے سرکی ہڈی ٹوٹ گئی۔ طالب حسین آٹھ سالہ آصفہ بانو کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کا گواہ ہے۔

موضوعات:

loading...