اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

مودی کو شکست کا خوف،ڈر کے مارے ایسا قدم اٹھا لیا کہ آپ کو بھی یقین نہیں آئیگا

datetime 16  مارچ‬‮  2019 |

نئی دہلی(آن لائن) لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کیساتھ ہی تمام پارٹیاں امیدواروں کے انتخاب میں مصروف ہو گئی ہیں، بی جے پی اپنے موجودہ 40 فیصد اراکین پارلیمنٹ کو ٹکٹ نہیں دے گی، کئی اراکین پارلیمنٹ کی سیٹیں بھی بدلنے کی اطلاعات ہیں ، کسی سیٹ پر اقتدار مخالف لہر سے نمٹنے کیلئے امیدوار تبدیل کئے جا رہے ہیں تو کہیں ذات پر مبنی امیدوار طے کیے جا رہے ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) وزیر اعظم نریندر مودی کو اوڈیشہ کے پیری لوک سبھا سیٹ سے انتخابی میدان میں اتارنے کی تیاری کر رہی ہے، دراصل بی جے پی اوڈیشہ اور مغربی بنگال میں اپنی بنیاد مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ ایسے میں اس بار مودی گزشتہ انتخاب کی طرح 2 نشستوں سے امیدوار ہو سکتے ہیں۔پیلی بھیت سے اس مرتبہ ورون گاندھی لوک سبھا انتخاب لڑ سکتے ہیں۔مرکزی وزیر مینکا گاندھی اپنے بیٹے کے لیے یہ سیٹ چھوڑ سکتی ہیں۔ مینکا ہریانہ کے کرنال سیٹ سے انتخاب لڑنے کی تیاریاں کررہی ہیں۔اس وقت ورون گاندھی سلطان پور سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ ہیں۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی سیٹ ایک بار پھر بدلی جا سکتی ہے۔ انہیں لکھنو کی جگہ گوتم بدھ نگر سے انتخابی میدان میں اتارا جا سکتا ہے۔اپنے بیانات پر موضوعِ بحث رہنے والے شعلہ بیان لیڈر ساکشی مہاراج کا ٹکٹ کٹ سکتا ہے۔ساکشی مہاراج فی الحال اناو سیٹ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ حالانکہ ابھی پارٹی کی طرف سے کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ ساکشی مہاراج نے خود ریاستی بی جے پی صدر کو خط لکھ کر متنبہ کیا ہے کہ اگر اس سیٹ سے کوئی دوسرا امیدوار اتارا جاتا ہے تو پارٹی ہار بھی سکتی ہے۔ حالانکہ بعد میں انہوںنے اپنے اس لیٹر کو جعلی بتاتے ہوئے حیرانی ظاہر کی اور جانچ کاموضوع بتادیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…