منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

فلسطین کی انسانی حقوق رپورٹ میں لفظ’’مقبوضہ‘‘ حذف کرنے پر امریکا بپھر گیا

datetime 15  مارچ‬‮  2019 |

رام اللہ(این این آئی)فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینہ نے امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں غربِ اردن ، غزہ کی پٹی اور گولان کی چوٹیوں کے ساتھ لفظ ’’ مقبوضہ‘‘ حذف کرنے اور انھیں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے قرار نہ دینے پر

ٹرمپ انتظامیہ کی مذمت کردی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انھوں نے محکمہ خارجہ کی اس حرکت کو امریکی انتظامیہ کی فلسطینی عوام کے خلاف جاری معاندانہ حکمتِ عملی کا شاخسانہ اور اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں کے منافی قرار دیا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں امریکی محکمہ خارجہ کی انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ میں اس تبدیلی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسطینی کاز کو ٹھکانے لگانے کے منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے۔صدر ٹرمپ آیندہ مہینوں کے دوران میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل کی بحالی اور مستقل قیام امن کے لیے اپنا منصوبہ منظرعام پر لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔تاہم فلسطینی قیادت نے واشنگٹن کے ساتھ تمام روابط منجمد کررکھے ہیں اور اس نے یہ فیصلہ 2017ء میں صدر ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس ( یروشلیم ) کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے اعلان کے بعد کیا تھا۔ فلسطینیوں کو یقین ہے کہ امریکا کا یہ مجوزہ منصوبہ اسرائیل کی ننگی حمایت ہی کا حامل ہوگا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…