پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

سیاسی فائدے کے لیے مودی نے ملک کو آگ میں جھونک دیا،،پاکستان کی جانب سے بھارت کو منہ توڑ جواب ، مودی سرکار کے گلے کا طوق بن گیا،شدید تنقید

datetime 27  فروری‬‮  2019 |

نئی دہلی (آن لائن)بھارتی فضائیہ کے دو طیارے تباہ ہونے کی ویڈیوز اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر مودی سرکار کو اپوزیشن اور عوام کے سامنے ذلیل کر کے رکھ دیا۔ بھارت جو پاکستان میں رات کے اندھیرے میں فضائی کارروائی کرنے کا دعویدار تھا ، اپنی سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے کے حق میں ایک تصویر تک بطور ثبوت پیش نہ کر سکا جبکہ پاکستان نے دن دیہاڑے بھارتی لڑاکا طیارے گرا کر بھارت کو بلا شبہ دن میں تارے دکھا دئے۔

پاکستان کی جانب سے اس قسم کا شاندار سراپرائز ملنے کے بعد مودی سرکاری کو اپوزیشن اور عوام کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے پر چیخ چیخ کر اپنی حکومت کا ساتھ دینے والا بھارتی میڈیا بھی پاک فوج کی اس کارروائی کے بعد چپ سادھ کر بیٹھ گیا ہے گویا انہیں بھی کوئی سانپ سونگھ گیا ہو۔ اپوزیشن نے بھارتی حکومت سے پاکستان میں کی گئی کارروائی کے ثبوت طلب کیے لیکن بھارتی حکومت اس حوالے سے کوئی بھی ثبوت دینے میں ناکام ہو گئی جس سے مودی سرکار کا سیاسی فوائد حاصل کرنے لیے رچایا گیا یہ ڈرامہ بے نقاب ہو گیا۔اپوزیشن نے مودی سرکاری کو خوب آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان میں جن درختوں کو تباہ کیا ان کی قیمت ہمیں دو طیاروں کی تباہی ، پائلٹس کی ہلاکت اور ہمارے پائلٹس کی پاک فوج کے زیر حراست ہونے کی صورت میں چکانا پڑ رہی ہے۔ بھارت کی ”So Called” سرجیکل اسٹرائیکس میں جو تین چار درخت تباہ ہوئے ان کی قیمت بھارت نے دو لڑاکا طیارے اور پائلٹس کی ہلاکت کی صورت میں چکا کر اپنی جان خلاصی کروائی۔اپوزیشن اور عوام کے سامنے اپنی حکومت کے بھونڈے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے اور اب مودی سرکار سے اپیل کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ مزید چھیڑ خانی نہ کی جائے کیونکہ اگر مودی سرکار نے مزید ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو عین ممکن ہے کہ اس مرتبہ پاک فوج بھارت کو وہ مزہ چکھائے کہ بھارت رہتی دنیا تک یاد رکھے۔ کچھ دیر قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے کہ انہیں پاکستانی کارروائی کی خبر ایک چٹ پر لکھ کر افسر نے بتائی جس پر بھارتی وزیر اعظم حواس باختہ ہو گئے اور تقریب ادھوری چھوڑ کر ہی چلتے بنے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…