ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

مسکراتی ہوئی یہ خوبصورت خاتون دراصل کون ہے ، اس نے کتنے سو افراد کو قتل کر رکھا ہے ، دنیا کی سب سے خطرناک ترین عورت قرار دی جانیوالی یہ خاتون اس وقت کس ملک میں داخل ہو چکی ہے؟ انتباہ جاری

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

لندن (نیوز ڈیسک)برطانوی انٹیلی جنس کو چند روز قبل دنیا کی سب سے خطرناک خاتون کے حوالے سے نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔برطانوی میڈیا نے باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ انٹیلی جنس اداروں کے پاس 35 سالہ دہشت گرد برطانوی خاتون کے متعلق بہت سی معلومات ہیں۔سابقہ معلومات کے مطابق وہ کبھی کینیا اور کبھی صومالیہ میں روپوشی اختیار کرتی رہی ہے۔معلومات کے

مطابق دنیا کی نمبر ایک دہشت گرد خاتون جس نے غالبا 400 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا، شاید یمن میں موجود ہے جہاں یقینی طور پر اس کے تعلقات ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ سمانتھا دہشت گرد تنظیم حرکت الشباب کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے جس نے کئی برس تک کینیا اور صومالیہ میں موجودگی کے دوران برطانوی خاتون کو تحفظ فراہم کیا۔یاد رہے کہ سمانتھا لیوتھویٹ ایک برطانوی فوجی کی بیٹی ہے۔ اس نے 15 برس کی عمر میں اسلام قبول کر کے اپنا نام تبدیل کر لیا تھا۔ وہ مغربی اور افریقی ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کی نظر میں ایسی شخصیت سمجھتی جاتی رہی ہے جو اپنے شوہر جیرمن لینڈسی کی طرح کے حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ معلومات کے مطابق دنیا کی نمبر ایک دہشت گرد خاتون جس نے غالبا 400 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا، شاید یمن میں موجود ہے جہاں یقینی طور پر اس کے تعلقات ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ سمانتھا دہشت گرد تنظیم حرکت الشباب کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے جس نے کئی برس تک کینیا اور صومالیہ میں موجودگی کے دوران برطانوی خاتون کو تحفظ فراہم کیا۔یاد رہے کہ سمانتھا لیوتھویٹ ایک برطانوی فوجی کی بیٹی ہے۔ اس نے 15 برس کی عمر میں اسلام قبول کر کے اپنا نام تبدیل کر لیا تھا۔ وہ مغربی اور افریقی ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کی نظر میں ایسی شخصیت سمجھتی جاتی رہی ہے جو اپنے شوہر جیرمن لینڈسی کی طرح کے حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔جیرمن نے 7 جولائی 2005 کو لندن کی میٹرو ٹرینز کو نشانہ بنانے کے لیے ہونے والے 4 حملوں میں خود کو 3 دیگر خود کش بم باروں کے ساتھ دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ ان حملوں میں 52 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…