اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

مسکراتی ہوئی یہ خوبصورت خاتون دراصل کون ہے ، اس نے کتنے سو افراد کو قتل کر رکھا ہے ، دنیا کی سب سے خطرناک ترین عورت قرار دی جانیوالی یہ خاتون اس وقت کس ملک میں داخل ہو چکی ہے؟ انتباہ جاری

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

لندن (نیوز ڈیسک)برطانوی انٹیلی جنس کو چند روز قبل دنیا کی سب سے خطرناک خاتون کے حوالے سے نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔برطانوی میڈیا نے باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ انٹیلی جنس اداروں کے پاس 35 سالہ دہشت گرد برطانوی خاتون کے متعلق بہت سی معلومات ہیں۔سابقہ معلومات کے مطابق وہ کبھی کینیا اور کبھی صومالیہ میں روپوشی اختیار کرتی رہی ہے۔معلومات کے

مطابق دنیا کی نمبر ایک دہشت گرد خاتون جس نے غالبا 400 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا، شاید یمن میں موجود ہے جہاں یقینی طور پر اس کے تعلقات ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ سمانتھا دہشت گرد تنظیم حرکت الشباب کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے جس نے کئی برس تک کینیا اور صومالیہ میں موجودگی کے دوران برطانوی خاتون کو تحفظ فراہم کیا۔یاد رہے کہ سمانتھا لیوتھویٹ ایک برطانوی فوجی کی بیٹی ہے۔ اس نے 15 برس کی عمر میں اسلام قبول کر کے اپنا نام تبدیل کر لیا تھا۔ وہ مغربی اور افریقی ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کی نظر میں ایسی شخصیت سمجھتی جاتی رہی ہے جو اپنے شوہر جیرمن لینڈسی کی طرح کے حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ معلومات کے مطابق دنیا کی نمبر ایک دہشت گرد خاتون جس نے غالبا 400 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا، شاید یمن میں موجود ہے جہاں یقینی طور پر اس کے تعلقات ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ سمانتھا دہشت گرد تنظیم حرکت الشباب کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے جس نے کئی برس تک کینیا اور صومالیہ میں موجودگی کے دوران برطانوی خاتون کو تحفظ فراہم کیا۔یاد رہے کہ سمانتھا لیوتھویٹ ایک برطانوی فوجی کی بیٹی ہے۔ اس نے 15 برس کی عمر میں اسلام قبول کر کے اپنا نام تبدیل کر لیا تھا۔ وہ مغربی اور افریقی ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کی نظر میں ایسی شخصیت سمجھتی جاتی رہی ہے جو اپنے شوہر جیرمن لینڈسی کی طرح کے حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔جیرمن نے 7 جولائی 2005 کو لندن کی میٹرو ٹرینز کو نشانہ بنانے کے لیے ہونے والے 4 حملوں میں خود کو 3 دیگر خود کش بم باروں کے ساتھ دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ ان حملوں میں 52 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…