ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

میرے والد کا طبیعی موت سے انتقال نہیں ہوا : فاطمہ رفسنجانی

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

تہران (این این آئی)ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی صاحبزادی فاطمہ رفسنجانی نے کہا ہے کہ مجھے اس بات کا پورا یقین ہے کہ میرے والد کی موت طبیعی نہیں تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دیئے گئے ایک انٹرویو میں فاطمہ رفسنجانی نے کہا کہ میں نے

اپنے والد کے انتقال کے بعد کئی پہلوؤں سے تحقیق کی اور میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی موت طبیعی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ میرے والد کا انتقال حوض میں نہانے سے ہوا۔ حالانکہ ان کے دفتر کے قریب ایسا کوئی حوض نہیں تھا۔فاطمہ رفسنجانی نے کہا کہ میرے والد کو جس نے بھی قتل کیا وہ دھڑلے کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم جو چاہیں کرسکتے ہیں، ہم کسی سے نہیں ڈرتے۔ایک سوال کے جواب میں ایرانی خاتون رہ نما نے کہا کہ میرے والد کو قتل کرنے کا منصوبہ پہلے بنایا گیا تھا۔ کئی بار انہیں اور مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔فاطمہ رفسنجانی نے بتایا کہ میرے والد کی وفات سے پہلے اسی سال نومبرمیں دو نامعلوم افراد میرے دفترمیں آئے اور بتایا کہ ہم محاذ جنگ سے آئے ہیں۔ ہم علی اکبرہاشمی رفسنجانی کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری طرف سے اپنے والد کو یہ پیغام پہنچا دو۔میں نے اس دھمکی کے بارے میں ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کو مطلع کردیا تھا۔ اس نے کہا کہ 8 جنوری کو ہاشمی رفسنجانی کے انتقال کے لیے یہ کہانی گھڑی گئی کہ رفسنجانی گارڈین کونسل کے دفتر میں ایک تالاب میں نہاتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے۔رفسنجانی خاندان نے علی اکبر ہاشمی کی وفات کے وقت بھی ان کی فات کے اسباب کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا مگر ایرانی قومی سلامتی کمیٹی نے ان کے خدشات پر کوئی توجہ نہیں دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…