اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

دہشتگرد تنظیم داعش نے اللہ کے جلیل القدر نبی حضرت یونسؑ کے مقبرے کو دھماکے سے اڑایا تو نیچے سے کیا چیز نکل آئی ؟ جس نے دیکھا رب کائنات کی قدرت پر دنگ رہ گیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2018 |

بغداد(نیوز ڈیسک)شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ایک تاریخی مقبرے کے نیچے سے ایک تین ہزار سال پرانا محل دریافت ہوا ہے،شمالی عراق کے شہر موصل کی ایک پہاڑی کو نبی حضرت یونس کی پہاڑی کہا جاتا ہے۔یہ جگہ صدیوں سے عبادت کا مقام رہی ہے۔ ابتدائی مسیحی دور میں یہاں ایک خانقاہ قائم ہوئی اور پھر 600سال بعد اسے حضرت یونس کے مقبرے

میں تبدیل کر دیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جولائی 2014 میں اس مقبرے کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے دھماکے سے اڑا دیا۔شدت پسندوں کا دعویٰ تھا کہ حضرت یونس کا یہ مقبرہ عبادت گاہ نہیں بلکہ مشرکین کا اڈہ بن گیا تھا۔اس مقبرے کی تباہی کی فوٹیج دنیا بھر میں دکھائی گئی۔ پیغام واضح تھاکہ کوئی بھی مقدس مقام دولت اسلامیہ کی شدت پسندی سے محفوظ نہیں ہے۔لیکن حضرت یونس کے مقبرے کی تباہی سے اس تاریخی پہاڑی کی کہانی ختم نہیں ہوئی بلکہ اسے ایک نیا رخ مل گیا۔ تباہی کے بعد یہ سوالات پیدا ہوئے کہ اس کی بنیادوں کی نیچے کیا دفن ہے۔ 2018 کے موسم بہار میں بی بی سی عربی کی ایک ٹیم ان گردآلود مگر شاندار سرنگوں میں گئی جو اس پہاڑی میں دریافت ہوئی تھیں۔اس ٹیم نے فوٹوگرامیٹری تکنیک کی مدد سے وہاں موجود اشیا کی ہائی ریزولوشن تصاویر اتاریں اور جاننے کی کوشش کی کہ اس تباہی کے نتیجے میں سامنے آنے والے آثار کی حقیقت کیا ہے۔حضرت یونس کا نام قرآن اور عبرانی انجیل دونوں میں ملتا ہے۔ ان دونوںکتابوں کے مطابق حضرت یونس نے نینوا کا سفر کیا جو کہ اشوریہ سلطنت کا دارالحکومت تھا۔حضرت یونس کے اس سفر کا مقصد نینوا کے شہریوں کو خبردار کرنا تھا کہ اگر انھوں نے گناہوں سے توبہ نہ کی تو وہ تباہ ہو جائیں گے۔بہت سے مسلمانوں کو یقین ہے کہ حضرت یونس کی ہڈیاں اس مقام پر رکھی گئی تھیں اور بعد میں اس پر مقبرہ تعمیر کیا گیا۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں پر اس وہیل مچھلی کا دانت بھی ہے جس کے پیٹ میں روایت کے مطابق حضرت یونس رہے ۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت یونس واقعی وہاں پر دفن نہیں تھے۔ درحقیقت حضرت یونس کی قبریں دنیا بھر میں مختلف مقامات پر بتائی جاتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…