ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

برطانوی حکومت کی جانب سے کم آمدنی والے شہریوں کی مالی امداد میں اصلاحات ، خواتین جسم فروشی پر مجبور ہوگئیں،افسوسناک انکشافات

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لندن (آن لائن)برطانوی حکومت کی جانب سے کم آمدنی والے شہریوں کو دی جانے والی مالی امداد کے نظام میں اصلاحات کی وجہ سے کئی خواتین جسم فروشی پر مجبور ہو رہی ہیں۔برطانیہ کی موجودہ کنزرویٹو حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں رائج فلاحی نظام میں اصلاحات کرتے ہوئے یونیورسل کریڈٹ نامی نظام متعارف کروایا تھا۔انگلینڈ میں پانچ خیراتی اداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسی عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے

جو یونیورسل کریڈٹ کے اجرا میں تاخیر کی وجہ سے جسم فروشی پر مجبور ہو رہی ہیں۔رکن پارلیمنٹ فرینک فیلڈ نے دارالعوام میں تقریر کرتے ہوئے حکومت کی توجہ اس مسئلے کی طرف دلائی۔ حکومت نے جواب میں کہا کہ کسی شہری کو یونیورسل کریڈٹ سسٹم کی وجہ سے پریشانی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔لیورپول کے علاقے سے تعلق رکھنے والی جولی نے بتایا کہ ا س نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ زندگی میں کبھی جسم فروشی پر مجبور ہوں گی۔جولی نے، جو اْن کا اصلی نام نہیں ہے، ریڈیو فور کو بتایا کہ یونیورسل کریڈٹ کی ادائیگی میں آٹھ ہفتوں کی تاخیر نے انھیں جسم فروشی پر مجبور کیا۔’میں اتنی مجبور تھی کہ جب مجھے سیکس کے عوض 30 پاونڈ کی پیشکش ہوئی تو میں نے اسے قبول کر لیا۔’جولی نے کہا:’میں یہ تسلیم کرتے ہوئے انتہائی شرمندہ ہوں کہ میں رقم کے لیے ایک شخص کے ساتھ سوئی۔’جولی کہتی ہیں کہ وہ اتنی مجبور تھیں کہ وہ خوراک کے لیے مفت خوراک کے مراکز فوڈ بینکوں سے مدد لینے پر مجبور تھی۔ ‘میں نے زندگی کبھی اس صورتحال کا سامنا نہیں کیا تھا۔ میں بہت بری طرح پھنسی ہوئی تھی’۔ممبر پارلیمنٹ فرینک فیلڈ نے نادارعورتوں کے جسم فروشی پر مجبور ہونے کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا تو انھیں ایک حکومتی وزیر ایستھر میکوی نے کہا کہ فرینک فیلڈ کو چاہیے کہ وہ اس عورت کو بتائیں کہ ملک میں آٹھ لاکھ تراسی ہزار ملازمتیں موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…