ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

دبئی پولیس نے چوری کی خطرناک ترین واردات سے متعلق تفصیلات جاری کر دیں،بھارتی چور گرفتار

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

دبئی (این این آئی)دبئی کی پولیس نے 3 لاکھ درہم مالیت کا 3.27 قیراط کا ہیرا چْرا کر اسمگل کرنے والے ایشیائی جوڑے کو بیرون ملک جانے کے بعد 20 گھنٹوں کے اندر ہی اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس جوڑے نے دبئی کے علاقے نائف میں واقع سوک گولڈ کی ایک دکان سے مذکورہ ہیرا چْرایا تھا جس کے بعد چوری میں شامل عورت نے اس کو اپنے پیٹ میں نگل لیا۔ واضح رہے کہ دکان کے مالک نے پولیس کو اپنے ہاں سے ہیرا چوری ہو جانے کی اطلاع واردات کے تین گھنٹوں کے بعد دی تھی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ جوڑا ہیرا چرانے کے بعد ممبئی کے راستے ہانگ کانگ کے لیے روانہ ہو چکا تھا۔ تاہم انٹرپول اور انڈین پولیس کے تعاون سے ان کو ممبئی کے ہوائی اڈے پر حراست میں لینے کے بعد دوبارہ متحدہ عرب امارات پہنچا دیا گیا۔دبئی پولیس کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیجز کے مطابق جوڑے میں شامل مرد نے دکان کے عملے کو ہیرے دکھانے کے بہانے باتوں میں لگا لیا۔ اس دوران عورت نے بیرونی دروازے کے قریب شیشے کے شو کیس کو کھول کر وہاں سے ایک ہیرا چْرا لیا اور اپنی جیکٹ میں چْھپا لیا۔اس کے بعد یہ جوڑا ایک شاپنگ مال میں گیا جہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں نے اپنے کپڑے تبدیل کر لیے اور پھر نکل کر دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا رخ کیا۔اس دوران دکان کے مالک کو چوری کا علم ہوا تو اس نے فورا پولیس کو اطلاع دی تاہم جب تک واردات کو تین گھنٹے گزر چکے تھے۔ اس تاخیر کا فائدہ اٹھا کر یہ جوڑا دبئی سے پرواز کرنے میں کامیاب ہو گیا۔دبئی پولیس میں جرائم کی تحقیقات کے شعبے کے سربراہ کرنل عادل الجوکر کے مطابق مشتبہ جوڑے اور ان کی پرواز کے متعلق تمام تر معلومات انٹرپول کے ذریعے انڈین پولیس تک پہنچا دی گئیں۔ اس کے نتیجے میں جوڑے کو ممبئی ایئرپورٹ پر گرفتار کر لیا گیا اور پہلی پرواز سے ہی واپس دبئی بھیج دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…