ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ایران : دو عورتوں سمیت24 مظاہرین کو 6ماہ سے 6 سال تک قید کی سزائیں

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

تہران(این این آئی)ایران میں عدلیہ نے دو خواتین سمیت چوبیس مظاہرین کو قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں مجرم ٹھہرا دیا ہے اور انھیں چھے ماہ سے چھے سال تک قید کی سزائیں سنا دیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہاکہ ان افراد سمیت پچاس سے زیادہ مظاہرین کو 2 اگست کو تہران میں ملک کی ابتر

معاشی صورت حال اور سرکاری حکام کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی ریلی میں حصہ لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ایرانی حکام نے انسانی حقوق کے علمبردار ایک وکیل کو بھی گرفتار کیا تھا۔اس کو 28 اکتوبر کو ایک زیر حراست شخص کی ہلاکت کی اطلاع دینے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔اس متوفی شخص کو ایرانی حکام نے احتجاجی جلوس میں حصہ لینے پر گرفتار کیا تھا اور پھر دوران حراست اذیتیں دے کر جان سے مار دیا تھا۔ہیومن رائٹس واچ کے مشرقِ وسطیٰ میں ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل پیج کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کے عہدے دار دنیا کے سامنے اس تشہیر کا اعادہ تو کرتے رہتے ہیں کہ ملک میں مظاہروں کی عام آزادی ہے اور یہ حقیقی آزادی کی بھی مظہر ہے جبکہ وہ یہ نہیں بتاتے ہیں کہ یہی مظاہرین جیلوں میں کئی کئی سال تک صعوبتیں برداشت کرتے رہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پْرامن مظاہرین کے خلاف مقدمات چلانے سے صرف ایرانیوں میں پائی جانے والی مایوسی اور عدم اطمینانی ہی کو تقویت ملے گی۔مظاہرین کے کیسوں سے باخبر تین ذرائع نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ پراسیکیوٹر زنے سزا پانے والے افراد پر اجتما ع ، قومی سلامتی کے اداروں سے ٹکراؤ اور مجاز اتھارٹی سے اجازت لیے بغیر مظاہرے میں حصہ لینے پر فرد جرم عاید کی تھی۔ان میں 19 سالہ لڑکی صبا سمیت دو ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے خلاف ماضی میں مظاہرے کے بارے میں سوشل میڈیا پر مواد پوسٹ کرنے کی بنیاد پر فرد جرم عاید کی گئی ہے۔دو ذرائع نے ایچ آر ڈبلیو کو بتایا کہ پراسیکیوٹرز اور جیل حکام نے زیر حراست افراد کو ان کے وکلاء سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی تھی۔اس کے بجائے ان پر یہ زور دیا جاتا رہا ہے کہ وہ قصور وار ہونے کا اقرار کر لیں۔ایرانی قانون کے مطابق قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار کیے گئے افراد کو تحقیقات کے دوران میں وکیل سے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…