جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی حکام نے طالبان کے سابق نائب سربراہ ملا عبدالغنی برادر کو کس شرط پر اور کس کے مطالبے پر رہا کیا؟ امریکہ کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا

datetime 27  اکتوبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکی محکمہ خارجہ نے کہاہے کہ طالبان کے بانی رہنماؤں میں شامل ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کابل کی جانب سے طویل عرصے سے کیے جانے والے مطالبے کی تکمیل ہے، جسے واشنگٹن میں موجود سفارتی حلقے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کی تصدیق کیلئے امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم ان اطلاعات سے آگاہ ہیں اور آپ کو پاکستانی حکام یا افغان حکومت سے رابطہ کرنے کے لیے کہیں گے جو طویل عرصے سے امن عمل میں شمولیت کیلئے ان کی رہائی کے خواہاں تھے۔خیال رہے کہ 2 روز قبل افغان طالبان نے ان میڈیا رپورٹس کی تصدیق کردی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی حکام نے طالبان کے سابق نائب سربراہ کو بغیر کسی شرط کے رہا کردیا ہے۔واضح رہے کہ ملا عبدالغنی برادر نے ملا عمر کے ساتھ مل کر تحریک طالبان کی بنیاد رکھی تھی اور وہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے سے قبل طالبان حکومت کا اہم حصہ تھے۔انہیں فروری 2010 میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے مشترکہ کارروائی میں کراچی سے گرفتار کیا تھا۔خیال رہے کہ امریکی سفیر خاص زلمے خلیل زاد کی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان سے ملاقات ہوئی تھی جس میں افغان مسئلے کے پرامن حل کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا تھا، جس کے بعد 2 ہفتوں سے بھی کم وقت میں طالبان رہنما کی رہائی عمل میں آئی۔  امریکی محکمہ خارجہ نے کہاہے کہ طالبان کے بانی رہنماؤں میں شامل ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کابل کی جانب سے طویل عرصے سے کیے جانے والے مطالبے کی تکمیل ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…