جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

انتہائی دائیں بازو کی جرمن پارٹی میں یہودیوں کی شمولیت کی مذمت

datetime 10  اکتوبر‬‮  2018 |

برلن(انٹرنیشنل ڈیسک)جرمنی میں یہودی شہریوں کے ایک گروپ نے کہاہے کہ انتہائی دائیں بازو کی مہاجرین مخالف سیاسی جماعت اے ایف ڈی سامیت دشمن نہیں ہے۔ ان یہودیوں کی متبادل برائے جرمنی نامی پارٹی میں شمولیت کی یہودیوں کی اکثریت نے مذمت کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن سیاسی جماعتوں میں سے آلٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) ایک ایسی پارٹی ہے۔

جو انتہائی دائیں بازو کی سوچ کی حامل ہے اور ملک میں مہاجرین کی آمد کی مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ واضح طور پر اسلام مخالف بھی ہے۔ یہ پارٹی جرمنی کی قدامت پسند یونین جماعتوں کرسچین ڈیموکریٹک یونین یا کرسچین سوشل یونین اور مرکز سے تھوڑا سا بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی جتنی پرانی سیاسی جماعت تو نہیں لیکن موجودہ جرمن پارلیمان میں وہ تیسری بڑی سیاسی قوت ہے۔اس جماعت کے رہنماؤں کے بار بار دیے جانے والے متنازعہ بیانات اور اس پارٹی کے ایجنڈے کو دیکھا جائے تو یہ واضح طور پر ایک عوامیت پسند پارٹی ہے، جس نے خاص طور پر مہاجرین کے بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں عام شہریوں کی ہمدردیاں حاصل کر کے اپنی سیاسی اور پارلیمانی طاقت کو یقینی بنایا۔اب یہی جماعت اس وجہ سے پھر ایک بار شہ سرخیوں کا موضوع بن گئی ہے کہ جرمنی میں یہودی شہریوں کا ایک گروپ یہ کہتے ہوئے اس پارٹی میں شامل ہو گیا ہے کہ اے ایف ڈی سامیت دشمن نہیں اور اس کے خلاف سامیت دشمنی کے الزامات لگاتے ہوئے حقائق کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔جرمنی میں یہودیوں کے اس گروپ نے اس پارٹی کے اندر اپنا ایک دھڑا بھی بنا لیا ہے، جسے اے ایف ڈی میں یہودی کا نام دیا گیا ہے۔ لیکن جرمنی میں یہودیوں کی آبادی کی اکثریت اور ان کی نمائندہ ملکی تنظیموں نے اے ایف ڈی میں شمولیت پر اس نئے یہودی

گروپ کی مذمت کی ہے۔ اے ایف ڈی میں اس یہودی گروپ کی شمولیت کا اعلان ابھی حال ہی میں شہر ویزباڈن میں کیا گیا، جہاں ہونے والی تقریب سے متبادل برائے جرمنی کے کئی سرکردہ رہنما بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر کئی مقررین نے نازی دور میں یہودیوں کے قتل عام یا ہولوکاسٹ اور جرمن سیاست اور ثقافت میں اس قتل عام کو یاد رکھنے کی ضرورت کے بارے میں کئی متنازعہ باتیں بھی کیں۔اے ایف ڈی میں شامل ہو کر اپنا ایک

گروپ بنانے والے یہودی ارکان کی ابتدائی تعداد 20 کے قریب بتائی گئی ہے۔ اس بارے میں اے ایف ڈی میں شامل کرسچین گروپ کے ایک رہنما نے کہا کہ ایسے معاملات میں تعداد غیر اہم ہوتی ہے۔ اے ایف ڈی کرسچین گروپ کے بانی یوآخم کْوہز نے ڈی ڈبلیو کو بتایاکہ جب ہم نے پارٹی میں اپنے کرسچین گروپ کی بنیاد رکھی تھی، تو ہماری تعداد بھی 20 کے قریب تھی۔ لیکن آج ہماری تعداد دس گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…