جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

مودی بھارت کا کمانڈر ان چیف نہیں بلکہ کیا ہے؟راہول گاندھی نے ایسی بات کہہ دی جسے جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

datetime 25  ستمبر‬‮  2018 |

نئی دہلی (آن لائن)بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے کہا ہے کہ نریندر مودی کمانڈر انچیف نہیں ’’تھیف‘‘ ہیں ۔ بھارتی اخبار کے مطابق سابق فرانسیسی صدر اولاند کے رافیل طیاروں کے معاہدے کے حوالے سے انکشاف کے بعد مودی حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے ۔راہول نے اپنی ٹویٹ میں مودی کو ’’بھارت کے چوروں کا کمانڈر ‘‘قرار دیا اور

ساتھ ایک فرانسیسی ویب سائٹ کی ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں بتایا گیا کہ معاہدے کیلئے مودی حکومت نے انیل امبانی کی کمپنی کا بطور شراکت دار تجویز کیا تھا۔ اس ویڈیو کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں فرانس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ مودی حکومت نے اس کمپنی کا نام تجویز کیا اور فرانسیسی کمپنی نے انیل امبانی سے معاملات طے کئے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میں چوکیدار چور بن گیا،عوام کی جیب پرڈاکا ڈالا،غریب عوام کی کمائی بزنس مین انیل امبانی پر لٹادی۔ راہول گاندھی کہا کہ نریندرمودی رافیل ڈیل کو منظرعام پر کیوں نہیں لاتے۔ بتایا جائے انیل امبانی کو ٹھیکہ کیوں دیاگیا۔راہول گاندھی نے نریندرمودی پر ایک لاکھ تیس کروڑ روپے کی چوری کاالزام لگایا۔ راہول گاندھی نے دفاعی معاہدے کوبھارتی فوج پرسرجیکل اسٹرائیک قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت نے 2016 میں فرانس سے 36 لڑاکا رافیل طیارے خریدنے کا معاہدے کیا تھا جس کی مالیت 8 اعشاریہ 7 ارب ڈالر تھی، معاہدے میں فرانسیسی کمپنی کی جانب سے بھارتی کمپنی کے ساتھ مل کر بھارت میں طیارے کے پرزے بنانے کے کارخانے لگانے کی شق بھی شامل تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…