جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں کاروبار نہ سجن جندال سے خاندانی مراسم لیکن عمران خان پھر بھی بھارت کو کس طرح فتح کرنے والے ہیں؟بھارتی کالم نگار کی حیران کن پیشگوئی

datetime 10  ستمبر‬‮  2018 |

ناموربھارتی کالم نگار ڈاکٹر وید پرتاب ویدک اپنے ایک خصوصی کالم میں لکھتے ہیں کہ۔۔۔یہ سرکار تحریک انصاف پارٹی کے لیڈر عمران خان کی ہے۔ کرکٹ کے اس مشہور و معروف کھلاڑی عمران خان کی ہے جو کئی بار بھارت آ چکے ہیں اور جن کے بھارت میں درجنوں دوست ہیں۔ عمران نے چنائو جیتتے ہی جو بیان دیا مجھے یاد نہیں پڑتا کہ پاکستان کے کسی دوسرے لیڈر نے ایسا جامع اور دوٹوک بیان دیا ہو۔

انہوں نے بڑے دلیرانہ انداز میں کہا تھا: بھارت اگر ایک قدم بڑھائے گا تو تعلقات سدھارنے کے لیے ہم دو قدم بڑھائیں گے۔ اس کے باوجود ذرا سوچیں کہ ہم لوگ یعنی بھارت والے کیا کر رہے ہیں؟ ہمارا میڈیا اور ہماری دو خاص سیاسی پارٹیاں ایک غیر مدعہ کو مدعہ بنائے ہوئے ہیں۔ یعنی نان ایشو کو ایشو بنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے تل کا تاڑ بنا دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہہ لیں۔ بات کا بتنگڑ کر دیا ہے۔ نوجوت سدھو کیا ہے؟ ایک کھلاڑی ہے۔ آج کل صوبوں کے سینکڑوں وزیروں میں سے ایک وزیر ہے۔ وہ بارہ برس تک بھاجپا کے ایم پی رہے ہیں۔ عمران کے ذاتی دوست ہونے کے ناطے ان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے پاکستان گئے جیسے نریندر مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بلایا تھا۔ نواز شریف اور مودی کا باہمی تعارف تک نہیں تھا۔ جہاں تک پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور سدھو کی گلے لگنے والی ملاقات کا سوال ہے۔ میں اسے سدھو کی زیادتی مانتا ہوں لیکن سدھو نے اپنے پرانے لیڈر کی نقل ماری ہے۔ بھاجپا اور کانگریس کے لیے مودی اور عمران تو حاشیہ میں چلے گئے اور انہوں نے سدھو کو اپنے سر پر بٹھا لیا ہے۔دونوں گاڑیاں پٹڑی سے اتر رہی ہیں۔ لیکن دونوں ملکوں کی سرکاریں پٹڑی پر ہی چلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دیکھئے، ہمارے وزیر اعظم مودی نے عمران خان کو فون کر کے مبارک باد دی۔ اپنے آپ دی۔

حلف اٹھائے جانے کے بعد انہوں نے چٹھی لکھی۔ چٹھی میں بھی کوئی تیکھی بات نہیں لکھی۔ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر کرنے کے لیے انہیں عمران خان صاحب سے کیا کیا امیدیں ہیں؟ یہ لکھا۔ ہماری وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ایک خط لکھا۔ ادھر قریشی صاحب نے جو بیان دیا۔ اس میں بھارت پاکتعلقات کو سدھارنے پر زور دیا گیا۔انہوں نے کشمیر اور ایٹمی قوت ہونے کا حوالہ ضرور دیا لیکن ان کا زور اسی بات پر تھا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہونا چاہیے۔

ہو سکتا ہے سشما اور قریشی صاحب کی اسی ستمبر میں ملاقات ہو جائے۔ دونوں اقوام متحدہ کی سالانہ تقریبات میں حصہ لینے کے لئے ماہ رواں کے دوران چند روز نیو یارک رہیں گے۔ سدھو کے گلے لگنے کو ہمارے ٹی وی چینلوں نے اتنا اچھالا کہ دل کو چھو لینے والی جس حقیقت پر بھارتیوں کا دھیان جانا چاہیے تھا۔ ادھر گیا ہی نہیں۔ وہ حقیقت تھی۔ اٹل جی کی آخری رسومات کے وقت پاکستان کے وزیر اطلاعات علی ظفر کی یہاں موجودگی! پاکستانی سرکار کا وزیر اس موقع پر عمران کی رائے بنا یہاں آ سکتا تھا؟

پاکستان کے کچھ اخبارات اور چینلوں نے بھی اٹل جی کو بہت پیار کے ساتھ خراج تحسین پیش کیا۔ یہ بات دوسری ہے کہ پاکستان کے اپوزیشن لیڈر مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ عمران سرکار کا خیر مقدم کر کے اسے بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ادھر عمران نے ٹویٹ کر کے پھر کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ ہر مسئلے کو بات چیت کے ذریعے سلجھایا جانا چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کو بھی! جب مشرف جیسے حکمران کے ساتھ اٹل جی اور من موہن سنگھ جی نے مسئلہ کشمیر پر کئی قدم آگے بڑھا لیے تھے تو اسی عمل کو اور آگے کیوں نہیں بڑھایا جا سکتا؟

لیکن یہاں ناک کا سوال آڑے آ رہا ہے۔ یہ معاملہ کہ بات چیت کی شروعات کون کرے؟ قریشی صاحب نے اپنے بیان میں کہہ دیا کہ مودی نے بات چیت کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے فوراً تصحیح کی کہ نہیں۔ قریشی صاحب کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ مودی نے دونوں ملکوں کے بیچ مثبت شروعات کی بات کی ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ بغیر بات کے، کوئی مثبت شروعات کیسے ہو سکتی ہے؟ اگر کوئی پیشکش ہوئی ہے یا اس بارے میں کوئی اشارہ دیا گیا ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ مودی نے تو اپنا کام کر دیا۔

اب عمران خان آگے بڑھیں اور کمان سنبھالیں۔عمران خان تھوڑا آگے بڑھے بھی ہیں۔ انہوں نے بھارت پاک تجارت بڑھانے کی بات کہی ہے۔ بھارت نے 1996ء سے پاکستان کو ”موسٹ فیورٹ نیشن‘‘ کا درجہ دے رکھا ہے لیکن پاکستان یہ درجہبھارت کو دینے میں جھجکتا رہا ہے۔ عمران خان ہمت کریں چاہے اس درجے کا نام تھوڑا بدل دیں‘ لیکن بھارت کی چیزوں کے لیے اپنے دروازے کھلوا دیں تو دونوں ملکوں کو زبردست فائدہ ہو گا۔

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان کے ساتھ بھارت کی تجارت مشکل سے صرف پندرہ ہزار کروڑ روپے کی ہے جو اس کے غیر ممالک سے تجارت کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ عمران خان نے دہشتگردی کے خلاف بھی کافی بولا ہے لیکن یہ وہ دہشتگردی ہے جو پاکستان کے اندر چل رہی ہے۔ انہوں نے اس دہشتگردی پر انگلی بھی نہیں اٹھائی ہے جو پورے خطے میں پھیلی ہے۔ اس کے خلاف بھی اقدامات ہونے چاہئیں اور یہ پتہ چلایا جانا چاہئے کہ اس دہشت گردی کا ذمہ دار کون ہے۔

پاکستان کے اس چنائو نے جو پیغام دیا ہے پتہ نہیں اسے عمران خان نے ابھی تک سمجھا ہے یا نہیں؟ اگر وہ اس دہشت گردی کو ختم کرانے کیلئے بھی اقدامات کریں تو حالات خاصے بدل سکتے ہیں۔ اس طرح وہ پورے جنوبی ایشیا کے کپتان بن جائیں گے۔عمران خان سیاست میں ہیں اور اس سے باہر بھی۔ بھارت پاک تعلقات کو آسان بنانے میں دونوں ملکوں کے غیر سیاسی عناصرکا کردار نہایت ہی اہم ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمارے قابل سفارت کار اجے بساریا کے ذریعے عمران کو وہ بیٹ تحفہ میں دینا، جس پر ہمارے کھلاڑیوں کے دستخط ہیں، ایک اچھی پیش رفت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…