بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

چابہار بندرگاہ ، بھارت ایران کو سنہرے خواب دکھاکر اپنے وعدوں سے پھر گیا، ایران مشتعل، جوابی اقدامات کا اعلان کردیا،حیرت انگیز انکشافات

datetime 12  جولائی  2018 |

تہران (این این آئی)ایران نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل چابہار پورٹ کی توسیع میں سرمایہ کاری کرنے کا اپنا وعدہ مبینہ طور پر پورا نہ کرنے پر بھارت پر نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ ایران سے تیل کی درآمد میں تخفیف کرتا ہے تو اسے حاصل ہونے والی خصوصی مراعات ختم ہو جائیں گی۔بھارت میں ایران کے نائب سفیر اور چارج ڈی افیئرس مسعود رضوانین رہاغی نے بھارت ایران تعلقات اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کے موضوع پر بولتے ہوئے کہا ہے

کہ ’’یہ بہت افسوسناک ہے کہ بھارت نے چابہار پورٹ کی توسیع اور موصلاتی پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔انھوں نے کہا کہ توقع ہے کہ اگر چابہار پورٹ میں اس کے تعاون اور شراکت داری کی اسٹریٹجک اہمیت ہے تو وہ اس سلسلے میں فوری طور پر ضروری اقدامات کرے گا۔ خیال رہے کہ ایران عراق اور سعودی عرب کے بعد بھارت کو تیل برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی خارجہ پالیسی میں آنے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک وقت تھا جب بھارت کہہ سکتا تھا کہ یہ ہمارا مؤقف ہے، ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مگر اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ ایران کے ساتھ بھارت کے تاریخی رشتے رہے ہیں۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ان کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت چابہار پورٹ بھی چاہتا ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے پاکستان کو نیچا دکھا سکے۔ امریکہ کی دھمکی کے بعد ایران سے تیل خریدنے کے معاملے پر بھارت کے پاس بہت محدود متبادل ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ یوروپی ممالک سے امریکی دھمکی پر بات کرے۔بھارت کی جانب سے ایران کے بیان پر تاحال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…