منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مردو ں کو ہفتوں، مہینوں اور برسوں بعد دفنایا، تابوت فیشن کے تحت بنائے جانے لگے، مردوں کی تد فین کی عجیب وغریب رسم نے سب کو حیران کردیا

datetime 28  جون‬‮  2018 |

گھانا(مانیٹرنگ ڈیسک)کئی ممالک میں مرد وعورت کی وفات کے بعد انہیں ایک دو روز میں دفنایا جاتا ہے لیکن افریقی ملک گھانا میں اس اہم کام میں بھی کئی ہفتے بلکہ سال بھی لگ جاتے ہیں۔ اس عرصے میں لاش کو برف میں منجمد کرکے رکھا جاتا ہے۔گھانا میں کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے خاندان کے ایک ایک فرد اور دور دراز رشتے داروں سے بھی رابطہ کیا جاتا ہے ۔

خواہ مرنے والے نے ان سے برسوں تک بات نہ کی ہو۔ یہ رشتے دار میت والے گھر جمع ہوتے ہیں اور تدفین کے بارے میں کیا، کیوں اور کیسے کے سوالات کرتے رہتے ہیں۔ اب مرنے والے کے انتہائی قریبی لواحقین کو ان کی بات ماننا پڑتی ہے۔حال ہی میں گھانا ایک شخص کو مرنے کے 6 برس بعد دفنایا گیا ہے جس کے متعلق یہ فیصلہ نہ ہوسکا تھا آخر جنازے میں سب سے آگے گریہ کرنے اور رونے والے کی ذمے داری کسے دی جائے؟ لیکن ایسے واقعات بھی گھانا میں عام ہیں۔صرف رونے والے کا معاملہ ہی نہیں، کبھی کبھار تو تابوت کے انتخاب پر بھی تنازعہ کھڑا ہوجاتا ہے۔ مرنے والوں کیلیے رنگ برنگے اور عجیب وغریب تابوت صرف گھانا میں ہی بنائے جاتے ہیں جو بہت مقبول ہیں۔ اس کے علاوہ دور دراز کے رشتے داروں کا انتظار بھی تدفین میں تاخیر کرتا ہے تاہم تدفین کے اخراجات کی ذمے داری مرنے والے کے بچوں اور قرابت داروں پر ہی ہوتی ہے۔اس کے علاوہ مرنے والے کے گھر کو ڈھا کر دوبارہ تعمیر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح رونے دھونے والوں کی فہرست بنانا بھی ایک عذاب ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جنازے میں آنے والے ایک ایک فرد سے بات کرنی پڑتی ہے کہ آیا وہ فارغ بھی ہیں یا نہیں؟حال میں ایک مشہور صنعتکار کے انتقال کے بعد اس کی 84 سالہ زندگی پر ایک خوبصورت رنگین کتاب چھاپی گئی اور جنازے میں آنے والوں میں مفت تقسیم کی گئی۔ دوسری جانب اگر کوئی خوش نصیب لاش دو سے تین ہفتے میں دفنادی جائے تو لوگ اسے عزت نہیں دیتے اور اسے برا شگون سمجھتے ہیں۔بعض ماہرین کے مطابق مرنے والوں کی سست تدفین کی وجہ سے ریفریجریشن کا عمل ہے اور گھانا میں جگہ جگہ لاشوں کو محفوظ رکھنے کیلیے سرد خانے موجود ہیں۔ اگر ان کا فروغ کم ہوجائے تو ازخود لوگ اپنے مردوں کو جلد دفنانے لگیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…