منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تمام یورپی ممالک مہاجرین کو قبول کریں ورنہ اٹلی کا فنڈز میں کمی کا عندیہ

datetime 25  جون‬‮  2018 |

برسلز(انٹرنیشنل ڈیسک)اٹلی نے مطالبہ کیا ہے کہ یورپی یونین میں داخل ہونے والے مہاجرین کو تمام رکن ملک میں تقسیم کیا جائے اور جو ممالک ایسا کرنے سے انکار کریں، انہیں یورپی یونین کی طرف سے فنڈ کی ادائیگی میں کمی کر دی جائے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اہم یورپی رہنماؤں نے چند روز بعد ہونے والے سربراہ اجلاس سے قبل برسلز میں ایک اہم ملاقات کی ہے۔ اس اجلاس میں خاص طور پر یورپی براعظم کو درپیش مہاجرین کے بحران پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

یورپی رہنما مہاجرین کے معاملے پر مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی کوشش میں ہیں۔اجلاس میں جرمن چانسلر انجیلا میرکل، اطالوی وزیراعظم جْوزیپے کونٹے کے علاوہ لکسمبرگ، اسپین اور بیلجیم کے وزرائے اعظم بھی شریک ہوئے۔ یورپی یونین کی دو روزہ سمٹ اگلے ہفتے اٹھائیس اور انتیس جون کو ہو گی۔ اس سمٹ سے پہلے اٹلی نے دس نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے۔ اطالوی حکومت کے مطابق ان کے تجویز کردہ ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے تمام مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔اٹلی کا کہنا تھا کی جو یورپی ممالک مہاجرین کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں، اصولا ان کی مالی امداد کم کر دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ اٹلی اس ڈبلن معاہدے میں بھی تبدیلیاں لانا چاہتا ہے، جو مہاجرین سے متعلق رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔تمام یورپی ممالک اسی معاہدے کے تحت مہاجرین کے ساتھ مناسب سلوک روا رکھتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت جو مہاجر جس یورپی ملک میں پہلی مرتبہ پہنچتا ہے، صرف اسی ملک میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے کا مجاز ہے۔ اٹلی کے مطابق اب یہ لکھا جانا چاہیے کہ جو اٹلی میں اترتا ہے، وہ یورپ تک پہنچ گیا ہے۔اٹلی اور اسپین کا مشترکہ موقف ہے کہ امیگریشن سینٹر صرف اٹلی اور اسپین ہی میں نہیں بلکہ دیگر یورپی ممالک میں بھی قائم ہونے چاہئیں۔ اسپین نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ اس کے ملک میں ہزاروں افریقی مہاجرین پہنچ رہے ہیں اور اس کی جلد از جلد مدد کی جائے۔اسپین نے اٹلی کی نئی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ یورپ مخالف پالیسیاں اپنائے ہوئے ہے۔ فرانس نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرین سے متعلق جو فیصلہ بھی کیا جائے، وہ انسانی حقوق اور یورپی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے۔جرمن حکومت کے مطابق آئندہ ہفتے کسی ایک حتمی معاہدے تک پہنچنا مشکل دکھائی دیتا ہے لیکن فریقین ہنگامی مسائل سے نمٹنے کے لیے دو یا سہ فریقی معاہدے کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…