کابل(آئی این پی)عالمی طاقتوں نے مفادات کی خاظر چھوٹے اور ناپائیدارممالک تہہ و بالا کر دئیے،افغانستان میں جاری مسلسل 40سالہ جنگ کا خمیازہ عام شہری ذہنی معذوری، پستگی،اور جان دے کر چکا رہے ہیں، 10 لاکھ افغانی ذہنی مسائلکا شکار، خودکشی رجحان میں روز افزوں اضافہ، 87 فیصد افغان خواتین جسمانی، جنسی یا نفسیاتی مرض کا شکار ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں مسلسل 40 سال سے جنگ کے انتہائی منفی اثرات شہریوں پر پڑے ہیں، 10 لاکھ افغانی ذہنی مسائل سے دوچار ہیں جن میں ایک خودکشی رجحان میں اضافہ بھی ہے، سال 2017 میں 1400 خواتین نے خود کشی کی کوشش کی۔افغانستان پچھلے 40 برسوں سے جنگ کی حالت میں ہے، عالمی طاقتوں کے مفادات کا خمیازہ اس ملک کو اس طرح بھگتنا پڑا ہے کہ دس لاکھ افغانی ذہنی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔ گذشتہ برس 1800 افراد نے خودکشی کی کوشش کی جن میں 1400خواتین شامل تھیں، خواتین میں خود کشی کی وجہ گھریلو تشدد،جبری شادیاں اور ذہنی مسائل ہیں جو جنگ کے دہشت زدہ ماحول کے باعث پیدا ہوئے۔افغان صوبے ہرات میں خواتین کی خود کشی کا رجحان باقی آبادی سے کہیں زیادہ ہے، اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے اندازوں کے مطابق 87 فیصد افغان خواتین جسمانی، جنسی یا نفسیاتی تشدد میں سے کسی نہ کسی کا شکار ہوتی ہیں جبکہ 62 فیصد کو مختلف اقسام کے استحصال کا سامنا رہتا ہے۔ عالمی طاقتوں نے مفادات کی خاظر چھوٹے اور ناپائیدارممالک تہہ و بالا کر دئیے،افغانستان میں جاری مسلسل 40سالہ جنگ کا خمیازہ عام شہری ذہنی معذوری، پستگی،اور جان دے کر چکا رہے ہیں، 10 لاکھ افغانی ذہنی مسائلکا شکار، خودکشی رجحان میں روز افزوں اضافہ، 87 فیصد افغان خواتین جسمانی، جنسی یا نفسیاتی مرض کا شکار ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں مسلسل 40 سال سے جنگ کے انتہائی منفی اثرات شہریوں پر پڑے ہیں، 10 لاکھ افغانی ذہنی مسائل سے دوچار ہیں جن میں ایک خودکشی رجحان میں اضافہ بھی ہے