منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شام میں امریکی فوج سے تصادم بھی ہو سکتا ہے، صدربشارالا اسد کی تنبیہ

datetime 2  جون‬‮  2018 |

واشنگٹن/دمشق(این این آئی)شامی صدر بشارالاسد نے کہاہے کہ اگر امریکا نے شام میں باغیوں کی مدد کے لیے موجود اپنے فوجی دستوں کو جلد واپس نہ بلایا تو شامی سرزمین پر امریکی فوج کے ساتھ تصادم کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے۔روسی نشریاتی ادارے کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بشارالاسد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی حکومت امریکی حمایت یافتہ جنگجوؤں

کے ساتھ مذاکرات تو کر سکتی ہے لیکن اگر ضروری ہوا تو ان کے زیر قبضہ علاقوں کی واپسی کے لیے عسکری قوت کا استعمال بھی کیا جائے گا۔ اسد کے مطابق اگر امریکی فوجی اپنے حمایت یافتہ باغیوں کی مدد کے لیے پہنچیں گے، تب بھی دمشق حکومت عسکری کارروائی کرے گے۔دوسری جانب امریکا کا کہنا تھا کہ امریکا شامی فوج یا شامی سرزمین پر موجود ایرانی فوجیوں کے ساتھ براہ راست تصادم نہیں چاہتا۔ تاہم امریکی دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ شام میں داعش کے خلاف برسرپیکار امریکی حمایت یافتہ جنگجوؤں کے دفاع کے لیے ضروری اور متناسب طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کا کہنا تھاکہ امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد شام میں داعش کو شکست دینے کے اپنے مشن پر کاربند ہے اور شامی فوج، وہاں موجود ایرانی فوجیوں یا ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے ساتھ کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتا۔ تاہم جیسا کہ ہم ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں، اگر حملہ کیا گیا تو امریکی فوجیوں اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے ضروری اور متناسب قوت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔اندازوں کے مطابق شامی سرزمین پر امریکی فوج کے قریب دو سو خصوصی اہلکار موجود ہیں۔ یہ اہلکار شامی باغیوں کے گروہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز یا ایس ڈی ایف کے فائٹرز کی معاونت اور مشاورت کر رہے ہیں۔ اس گروہ کی قیادت کردوں کی ایک ملیشیا کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…