منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی کمیشن کی پاکستان پر پابندیاں لگانے کی تجویز،نہیں ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ ۔۔۔! ٹرمپ کا حیرت انگیز ردعمل سامنے آگیا

datetime 31  مئی‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ( یو ایس سی آئی آر ایف ) نے دوبارہ اس بات کی تجویز دی ہے کہ پاکستان کو خاص تشویش والا ملک قرار دیا جائے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پہلے کی طرح اس سے اجتناب کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق یو ایس سی آئی آر ایف کی جانب سے یہ تجاویز 2012 سے دی جارہی لیکن کامیاب امریکی انتظامیہ مختلف بنیادوں پر اسے نظر انداز کر رہی کیونکہ اس مجوزے سے ملک میں مذہبی آزادی کو فروغ دینے میں ناکامی ہوگی۔

خیال رہے کہ 22 دسمبر 2017 کو امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کی جانب سے پاکستان کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں شامل ہونے یا برداشت کرنے سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں شامل کیا تھا۔اس کے علاوہ اس اقدام کے حوالے سے میڈیا میں بیانات گردش کررہی تھیں کہ رواں سال انتظامیہ پاکستان کو خاص تشویش ناک ملک قرار دے سکتی ہے اور اس پر نئی پابندیوں کا اطلاق ہوسکتا ہے لیکن پاکستان رواں سال بھی اس میں شامل ہونے سے محفوظ رہا۔اس حوالے سے امریکی کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس پاکستان میں 50 افراد کو توہین مذہب کے الزام میں قید کیا گیا، جس میں 17 کو سزائے موت دی گئی۔امریکی کمیشن کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ پاکستان میں انتظامیہ نے توہین مذہب کے قانون جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے تحت ہونے والی سزاؤں میں عمر قید سے لے کر سزائے موت شامل ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ مذہب کو جواز بنا کر اشتعال انگیزی کرنا ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس سے پاکستان، افغانستان، بھارت، ایران اور روس میں اقلیتیں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا بڑے پیمانے پر سامنے کر رہی ہیں۔امریکی ادارے کی رپورٹ میں مشال خان قتل کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس میں بتایا کہ اپریل 2017 میں مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کا الزام لگا کر ایک طالب علم کو تشدد کے بعد ہلاک کردیا گیا جبکہ تفتیش میں یہ الزام جھوٹا ثابت ہوا۔اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا کہ سال 2017 میں نامعلوم حملہ آوروں نے پاکستان میں شیعہ، ہزارہ اور احمدیوں کو نشانہ بنایا جبکہ ہزاہ برادری پر حملوں کے واقعات میں مزید اضافہ ہوا اور 5 مختلف واقعات میں 15 افراد کو قتل کردیا گیا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں اردو زبان کا ذرائع ابلاغ اقلیتی گروہوں سے متعلق رپورٹ میں جانبدار رہا اور مختلف مواقع پر میڈیا نے نامناسب زبان کا استعمال کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…