منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پورے یورپ کی عقل کو گرہن لگ گیا،یورپ دہشت گرد تنظیموں کے متعلق سنجیدہ رویہ اختیار کرے ورنہ ۔۔! ترک صدر رجب طیب اردگان نے انتہائی اقدام کی دھمکی دیدی

datetime 29  مئی‬‮  2018 |

انقرہ(آئی این پی) ترک صدر رجب طیب اردگان نے یورپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ما سوا چند ممالک یورپ کی عقل کو گرہن لگ گیا ہے،یورپ کے قول و فعل میں انتہا کا تضاد ہے، یورپ کبھی بھی ترکی کو بے بس کرنے کے قابل نہیں ہو سکتا، یورپ دہشت گرد تنظیموں کے متعلق سنجیدہ رویہ اختیار کرے ورنہ نقصان کا ذمہ دار خود ہو گا،یورپ بتائے کہ یہ کیسا طرز فکر ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK کی علامتوں اور جرمنی میں اس کی شاخوں کی شرکت سےکولن میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے کی اجازت دئیے جانے پر تنقید کی ہے۔صدر ایردوان نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں شرکت کی اور سوالات کے جواب دئیے۔جرمنی میں گذشتہ ہفتے کے آخر میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم کے حامیوں کی شرکت سے منعقدہ مظاہرے کی یاد دہانی کروائے جانے پرصدر ایردوان نے کہا کہ چند ممالک خارج یورپ کی عقل کو حقیقی معنوں میں گرہن لگا ہوا ہے۔ خاص طور پر جرمنی، ان کے ساتھ ہم بہت سے اچھی چیزوں کے بارے میں بات کرتے ہیں ، ہمارے سامنے تو یہ کچھ اور کہتے ہیں لیکن جب ہم عملی طور پر دیکھتے ہیں تو یہ ان باتوں کو مکمل طور پر فراموش کر کے دوبارہ دہشت گرد تنظیموں پی کے کے اور فیتو کے لئے اپنے دروازوں کو کھول رہے ہوتے ہیں۔صدر ایردوان نے کہا کہ اس سب کی وجہ میرے خیال میں یہ ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے ہم شائد ترکی کو بے بس کر سکتے ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ آپ ان ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے، ترکی میں حملے کے اقدام کا انجام کیا ہوا ہے ۔آخر اس سے آپ کے ہاتھ کیا لگا ہے۔صدر ایردوان نے کہا کہ ہم آپ کے بعض جگہوں کے ساتھ کس قسم کے رابطوں میں ہونے کو جانتے ہیں

اور جب ہم آپ کو اس بارے میں بتاتے ہیں تو آپ کو بے اطمینانی ہوتی ہے۔صدر ایردوان نے کہا کہ ایک وقت میں انہوں نے ذرا عقل سے کام لیا اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف سنجیدہ قدم اٹھایا لیکن اب انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے تو انہوں نے دوبارہ بہانے بنانا شروع کر دئیے ہیں۔ یہ 3 ماہ پہلے سے مظاہرے کی اجازت لئے جانے کی بات کرتے ہیں ۔ اس کا کیا مطلب ہے یعنی پی کے کے آپ سے 3 ماہ پہلے سے اجازت لے رہی ہے؟ آپ ہمیں تو سیاسی پارٹی تو ایک طرف سول سوسائٹیوں تک کے اجلاس کی اجازت نہیں دیتے ۔ اجلاس کے لئے ہال تک کرائے پر نہیں دیا جاتا ۔ آخریہ کس قسم کا طرز فکر ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…