منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کار چور انجینئر کی کارستانی، اپنی گاڑی فروخت کرتا پھر چرا لیتا ،واردات کے نئے انداز نے پولیس کو بھی چکراکر رکھ دیا، حیرت انگیز انکشافات

datetime 29  مئی‬‮  2018 |

نئی دہلی (آئی این پی) بھارت میں کار چوری کرنے والے انجینئر نے ایک گاڑی کئی مرتبہ چوری کی اور فروخت کی، 17.5لاکھ میں فروخت کر کے پھر چرالی۔بھارتی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں سول انجینئر نے پہلے خود اپنی کار سرفراز الدین کو فروخت کی پھر اسے چرابھی لیا۔ پولیس تحقیقات میں پتہ چلا کہ سنگھل نے گاڑی کی دوسری چابی کی مدد سے چوری کی واردات انجام دی۔

پولیس نے پوچھ گچھ کے بعد اتراکھنڈ کے رہنے والے منوج کو گاڑی سمیت اس کے گھر سے گرفتار کرلیا۔واضح ہوکہ سرفرازالدین کو کیب سروس کیلئے گاڑی کی تلاش تھی۔ اس نے ایک اشتہار شائع کروایا جس کے بعد سنگھل سے رابطہ ہوا ۔ دونوں کے مابین گاڑی 17.5لاکھ روپے میں فروخت کرنے کا معاہدہ طے پایا۔اس موقع پر سرفراز الدین نے 50ہزار روپے نقد اور 14لاکھ روپے آن لائن ٹرانسفر کرکے گاڑی خرید لی۔ گاڑی کے کاغذات بقیہ 3لاکھ رورپے کی ادائیگی کے بعد دینے کی بات پررضامند ی ہوئی تھی۔جس دن گاڑی چوری ہوئی اس دن سرفراز الدین نے سنگھل سے ملاقات کر کے سادہ چیک دیا تھا اور گاڑی کے مالکانہ حقوق کے کاغذات ٹرانسفر کرنے کیلئے کہا لیکن جب سنگھل کار پارکنگ میں پہنچا تو وہاں گاڑی موجود نہیں تھی۔سرفرازالدین نے سنگھل کو فون کیا تواس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ کبھی فون نہ کرنا۔سرفراز کی جانب سے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائے جانے کے بعد سنگھل نے بھی رپورٹ درج کرائی جس میں الزام لگایا کہ سرفراز الدین کا چیک باونس ہوگیا تھا ۔ پوچھ گچھ کے دوران سنگھل کے بیانات تبدیل ہونے پر پولیس نے اسے گرفتار کرلیا ۔ اسکے ساتھ سختی کا رویہ اختیار کیا تو حقیقت حال سے پردہ اٹھاکہ سنگھل نے ہی گاڑی بیچنے کے بعد نقلی چابی کی مدد سے چرائی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…