منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’کشمیری مجاہد شبیر شاہ کی بیٹی بھی فائٹر نکلی‘‘ بارہویں جماعت میں 500میں سے 489نمبر حاصل سما ء بھارتی جیل میں قید باپ سے ملنے جاتی توجانتے ہیں وہاں کیا کرتی؟

datetime 28  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیرسمیت دنیا بھر میں شبیر شاہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ،بھارتی مظالم  کے خلاف لڑنے والے کشمیری مجاہد شبیر شاہ کی بیٹی بھی اپنے والد کی طرح فائٹر نکلی۔تاہم اس نے یہ معرکہ بھارتی گولیوں کے مقابلے میں بندوق اٹھانے کے بجائے قلم کو اپنا ہتھیار بنا کر سر کیا ہے۔عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شبیر شاہ کی بیٹی سماء شبیر شاہ نے سی بی ایس ای کے زیر اہتمام منعقدہ بارہویں

جماعت کے امتحانات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئےمقبوضہ جموں وکشمیر میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے۔نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید کشمیری رہنما شبیر شاہ کی بیٹی دہلی پبلک اسکول (ڈی پی ایس) سری نگر (اتھواجن ) کی طالبہ ہیں۔ سماء شبیر شاہ نے بارہویں کے امتحانات میں 97 اعشاریہ 8 فیصد نمبر حاصل کئے ہیں۔500میں سے 489نمبر لینے والی سماء نے تاریخ کے مضمون میں 99فیصد نمبر حاصل کیے۔سماء شبیر شاہ نے اپنی اس کامیابی کو اپنی والدہ ڈاکٹر بلقیس کی خصوصی توجہ اور محنت کا نتیجہ قرار دیا اور ساتھ ہی بھی بتایا کہ اس میں تہاڑ جیل کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔وہ جب بھی جیل میں قید اپنے والد سے ملنے آتی تھیں انہیں چار پانچ گھنٹے انتظار کرنا پڑتا تھا چنانچہ وہ اپنی کتابیں ساتھ لے آتی تھیں اور اس دوران مسلسل سبق یاد کرتی رہتی تھیں۔واضح رہے کہ شبیر شاہ کی زندگی کا زیادہ تر حصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزرا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 30 سال قید کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے گزارے لیکن بھارتی حکومت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…