ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

ازلی دشمنوں کا دوستی کی جانب ایک اورقدم ،شمالی اور جنوبی کورین صدور کی سرحد کے درمیان واقع غیر فوجی علاقے میں ملاقات،بڑا قدم اُٹھالیاگیا

datetime 27  مئی‬‮  2018 |

پیانگ یانگ(نیوز ڈیسک) امریکی صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی ملاقات کو ممکن بنانے کے لیے شمالی اور جنوبی کوریا کے رہنماؤں نے دونوں ممالک کی سرحد کے درمیان واقع غیر فوجی علاقے میں ملاقات کی ہے۔گذشتہ چند ماہ میں یہ مون جائے اِن اور کم جونگ اِن کے درمیان دوسری ملاقات ہے۔ ماہرین کی جانب سے خیال کیا جا رہا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان اعلی سطحی اجلاس کو دوبارہ ممکن بنانا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اگلے ماہ کی 12 تاریخ کو ملاقات منسوخ کرنے کے بعد کہا ہے کہ اب بھی ممکن ہے۔امریکی صدر نے بارہ جون کو ہونے والے مجوزہ ملاقات کو یہ کہہ کر منسوخ کر دیا تھا کہ شمالی کوریا کا رویہ انتہائی جارحانہ ہے ۔ لیکن صدر ٹرمپ نے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی یہ عندیہ دیا کہ ان کی شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ ملاقات کا اب بھی امکان موجود ہے۔امریکی صدر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہو گا۔ یہ 12 کو بھی ہو سکتی ہے۔ ہم ان سے بات کر رہے ہیں اور وہ زیادہ چاہتے ہیں کہ ایسا ہو اور ہم بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں۔اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ شمالی کوریا سے خوشگوار اور کارآمد بیان کا آنا بہت اچھی خبر ہے۔ ہم جلد ہی دیکھیں گے کہ مزید کیا پیش رفت ہوتی ہے، امید ہے کہ یہ راستہ طویل اور پائیدار خوشحالی اور امن کی طرف جائے گا۔ صرف وقت (اور ٹیلنٹ)بتائے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی ملاقات کو ممکن بنانے کے لیے شمالی اور جنوبی کوریا کے رہنماؤں نے دونوں ممالک کی سرحد کے درمیان واقع غیر فوجی علاقے میں ملاقات کی ہے۔گذشتہ چند ماہ میں یہ مون جائے اِن اور کم جونگ اِن کے درمیان دوسری ملاقات ہے۔   امریکی صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی ملاقات کو ممکن بنانے کے لیے شمالی اور جنوبی کوریا کے رہنماؤں نے دونوں ممالک کی سرحد کے درمیان واقع غیر فوجی علاقے میں ملاقات کی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…