ہفتہ‬‮ ، 24 جنوری‬‮ 2026 

ریڈ کارپٹ بچھائیے، جنرل باجوہ کو دلی بلائیے، پھر دیکھے کیا ہوتا ہے، ’را‘کے سابق سربراہ ایس دولت نے آرمی چیف کو بھارت کے دورے کی دعوت دینےکا مطالبہ کر دیا۔۔اپنی ہی حکومت پر کس طرح تنقید کر ڈالی؟

datetime 23  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انڈیا اور پاکستان کے منجمد رشتوں کے درمیان انڈیا کے خفیہ ادارے ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جمود توڑنے کے لیے انڈیا کو پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو دلی آنے کی دعوت دینی چاہيے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اے ایس دولت نے یہ بات انڈیا کے

ایک سرکردہ ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی پر ایک بات چیت کے دوران کہی۔جب ان سے پو چھا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی خراب ہیں، رشتے منجمد ہیں اور امن کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ان حالات میں کیا کیا جانا چاہیے؟ تو دولت نے جواب دیا کہ کچھ عرصے پہلے ٹریک ٹو کی ایک میٹنگ میں یہ صلاح دی گئی تھی کہ انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر کو لاہور بلایا جائے۔ لیکن پاکستان میں کسی نے اس مشورے کو اہمیت نہیں دی۔ کسی نے بصیرت نہیں دکھائی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میں بہت پر امید ہوں، وقت بہت بدل چکاہے۔ دونوں کوریا ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں۔ کسی نے سوچا تھا کہ صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات ہوگی؟ ہمیں بھی بڑا سوچنا چاہیے۔ ریڈ کارپٹ بچھائیے۔ جنرل باجوہ کو دلی آنے کی دعوت دیجیے۔ پھر دیکھے کیا ہوتا ہے۔ٹی وی پر اس بات چیت میں پاکستان کی خفیہ سروس کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی بھی سکائپ کے ذریعے شامل تھے۔دولت اور جنرل درانی نے انڈیا اور پاکستان کی صورتحال کے پس منظر میں مشترکہ طور پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ‘سپائی کرونکل: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الیوژن آف پیس ہے۔دونوں سابقہ جاسوسوں نے کتاب کا بیشتر حصہ دبئی، استنبول اور کٹھمنڈو میں لکھا ہے۔ یہ کتاب باضاطہ طور پر اسی ہفتے ریلیز ہونی تھی لیکن جنرل درانی ویزا نہ ملنے کے سبب ابھی تک دلی نہیں آ سکے ہیں۔

اے ایس دولت کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ ایک مشترکہ کتاب لکھتے ہیں یہی ایک غیر معمولی بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ امن مشکل ضرور ہے لیکن اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر کرنے کے لیے پروازیں بڑھائی جانی چاہئیں اور ‘دونوں ملکوں کو کرکٹ کے روابط فوری طور پر بحال کرنے چاہئیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…