منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اسرائیل مسلمانوں کی جس شخصیت سے خوفزدہ ہے جانتے ہیں وہ کون ہے؟ امریکہ، سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں نے اس بڑی عرب شخصیت سمیت 10عربوں کو دہشتگرد قرار دیدیا، معاونت کرنیوالے کے خلاف بھی واضح اعلان

datetime 18  مئی‬‮  2018 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کی اسٹیٹ سکیورٹی پریذیڈینسی نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے دس کمانڈروں کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیے ۔سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق حزب اللہ کی شوریٰ کونسل کے پانچ ارکان کو بھی دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ اقدام سات ممالک پر مشتمل ٹیررسٹ فنانسنگ اور ٹارگٹنگ سنٹر

( دہشت گردوں کی مالی معاونت اور اہدافی مرکز ،ٹی ایف ٹی سی) کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے۔سعودی عرب اس مرکز کا شریک چیئرمین ہے۔اس کے دوسرے ارکان میں بحرین ، کویت ، اومان ، قطر اور متحدہ عرب امارات اور امریکا شامل ہیں۔اس مرکز نے پہلے ہی حزب اللہ کی شوریٰ کونسل کے ارکان کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔امریکا کے محکمہ خزانہ کے تحت دفتر برائے خارجہ اثاثہ کنٹرول (او ایف اے سی) نے بھی بدھ ہی کو اپنے خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مل کر حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ کو دہشت گردی کا اسپانسر قرار دیا ہے۔او ایف اے سی اور ٹی ایف ٹی سی دونوں نے حزب اللہ کی شوریٰ کونسل کے ارکان اور سینیر لیڈروں نعیم قاسم ، محمد یزبک ، حسین الخلیل اور ابراہیم الامین السید کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور جو ان کی معاونت کرے گا ، وہ بھی دہشت گرد قرار پائے گا۔مزید برآں ٹی ایف ٹی سی کے رکن ممالک نے حزب اللہ سے وابستہ بعض شخصیات اور اداروں کو بھی دہشت گرد قرار دیا ہے۔ان کے نام یہ ہیں: طلال حامیہ ، علی یوسف شرارا، سپیکٹرم گروپ ، حسن ابراہیمی ، ماہر ٹریڈنگ ، ہاشم صفی الدین ، اعظم طباجہ ، الانمعا گروپ اور الانمعا انجنیئرنگ اور کنٹرکٹنگ ۔ ان تمام کو امریکا نے پہلے ہی دہشت گرد قرار دے کر بلیک لسٹ کررکھا ہے۔امریکا کے وزیر خزانہ اسٹیون ٹی نوشین نے حزب اللہ کی شوریٰ کونسل پر پابندیاں عاید

کرتے وقت کہا ہے کہ ہماری قوم اجتماعی طور پر نام نہاد سیاسی ونگ اور حزب اللہ کی عالمی دہشت گردی کی سازش کے درمیان غلط تفریق کو مسترد کرتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کی ہدایات کے تحت حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل اور شوریٰ کونسل کے سربراہ حسن نصراللہ شام میں انسانی مصائب کو طول دے رہے ہیں ،عراق اور یمن میں تشدد کو ایندھن مہیا کررہے ہیں،لبنانی ریاست اور لبنانی عوام کو خطرے سے دوچار کررہے ہیں اور پورے خطے ہی کو عدم استحکام سے دوچار کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…