جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

شام پر حملہ امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی غنڈہ گردی ہے،روس شدید مشتعل، دھماکہ خیز جوابی اقدام کا اعلان کردیا

datetime 15  اپریل‬‮  2018 |

ماسکو/نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) روسی صدر ولادی میر پوتن نے روس کے حلیف ملک شام پر حملے کی سخت ترین طریقے سے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ روس اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس بلائے گا۔ادھر اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وسیلی نبینزیا نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس کے صدر ولادمیر پوتن کی پیغام پڑھا ہے جس میں انھوں نے اتحادی ممالک پر الزام لگایاہے کہ انھوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا معائنہ کرنے والی ٹیم کی دوما میں ہونے والے واقعے کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی شام پر حملہ کر دیا۔

روسی سرکاری ٹیلی ویڑن کے مطابق صدر پوتن نے اس حملے کو جارحیت قرار دیا۔ انھوں نے کہا دوما پر ہونے والا کیمیائی حملہ ڈراما تھا اور یہ حملے کا بہانہ تھا۔ادھر اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وسیلی نبینزیا نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس کے صدر ولادمیر پوتن کی پیغام پڑھا جس میں انھوں نے اتحادی ممالک پر الزام لگایا کہ انھوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا معائنہ کرنے والی ٹیم کی دوما میں ہونے والے واقعے کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی شام پر حملہ کر دیا۔کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے نمائندے اس وقت شام کے داراحکومت دمشق میں موجود ہیں جہاں سے وہ دوما جائیں گے۔وسیلی نبینزیا نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس پر غنڈہ گردی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان ممالک نے عالمی قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔دریں اثناء شام پر امریکی حملے کے خلاف سلامتی کونسل میں روس کی قرار داد منظور نہ ہوسکی۔ادھر فرانس امریکہ اوربرطانیہ نے نئی قراردادپیش کردی ہے جس میں عالمی ادارے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ شام کے محصور علاقوں تک فوری امدادی کی رسائی کو یقینی بنایا جائے،میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس روس کی درخواست پر ہنگامی طور پر طلب کیا گیا جس میں شام پر امریکا، برطانیہ اور فرانس کے حملے کے معاملے پر بحث ہوئی، روس نے حملے کے خلاف قرارداد پیش کی جو تین کے مقابلے میں 8 ووٹ سے مسترد ہوگئی،

روس، چین اور بولیویا نے قرارداد کے حق جب کہ چار ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔روسی سفیر کا موقف تھا کہ شام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملے سے خطے کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ شام کے مسئلے کا حل عسکری طاقت نہیں۔دوسری جانب امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے شامی مسئلے کے حل کے لیے ہمیشہ سفارت کاری پر زور دیا لیکن شام کی تازہ صورت حال پر بات چیت کا وقت کل رات ہی ختم ہوگیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام پر حملہ انسانیت کے خلاف مظالم پر کیا گیا، امریکا شام کی حکومت کو کیمیائی حملے کرنے نہیں دے گا۔امریکی سفیر نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل شام میں کیمیائی حملے روکنے میں ناکام رہی ہے اور اس کی ناکامی کا ذمہ دار روس ہے، میری صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی ہے اگر شامی حکومت نے اپنے شہریوں پر پھر کیمیائی حملہ کیا تو امریکا شام کے خلاف دوبارہ کارروائی کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…