اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

شام پر حملہ امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی غنڈہ گردی ہے،روس شدید مشتعل، دھماکہ خیز جوابی اقدام کا اعلان کردیا

datetime 15  اپریل‬‮  2018 |

ماسکو/نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) روسی صدر ولادی میر پوتن نے روس کے حلیف ملک شام پر حملے کی سخت ترین طریقے سے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ روس اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس بلائے گا۔ادھر اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وسیلی نبینزیا نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس کے صدر ولادمیر پوتن کی پیغام پڑھا ہے جس میں انھوں نے اتحادی ممالک پر الزام لگایاہے کہ انھوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا معائنہ کرنے والی ٹیم کی دوما میں ہونے والے واقعے کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی شام پر حملہ کر دیا۔

روسی سرکاری ٹیلی ویڑن کے مطابق صدر پوتن نے اس حملے کو جارحیت قرار دیا۔ انھوں نے کہا دوما پر ہونے والا کیمیائی حملہ ڈراما تھا اور یہ حملے کا بہانہ تھا۔ادھر اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وسیلی نبینزیا نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس کے صدر ولادمیر پوتن کی پیغام پڑھا جس میں انھوں نے اتحادی ممالک پر الزام لگایا کہ انھوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا معائنہ کرنے والی ٹیم کی دوما میں ہونے والے واقعے کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی شام پر حملہ کر دیا۔کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے نمائندے اس وقت شام کے داراحکومت دمشق میں موجود ہیں جہاں سے وہ دوما جائیں گے۔وسیلی نبینزیا نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس پر غنڈہ گردی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان ممالک نے عالمی قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔دریں اثناء شام پر امریکی حملے کے خلاف سلامتی کونسل میں روس کی قرار داد منظور نہ ہوسکی۔ادھر فرانس امریکہ اوربرطانیہ نے نئی قراردادپیش کردی ہے جس میں عالمی ادارے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ شام کے محصور علاقوں تک فوری امدادی کی رسائی کو یقینی بنایا جائے،میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس روس کی درخواست پر ہنگامی طور پر طلب کیا گیا جس میں شام پر امریکا، برطانیہ اور فرانس کے حملے کے معاملے پر بحث ہوئی، روس نے حملے کے خلاف قرارداد پیش کی جو تین کے مقابلے میں 8 ووٹ سے مسترد ہوگئی،

روس، چین اور بولیویا نے قرارداد کے حق جب کہ چار ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔روسی سفیر کا موقف تھا کہ شام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملے سے خطے کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ شام کے مسئلے کا حل عسکری طاقت نہیں۔دوسری جانب امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے شامی مسئلے کے حل کے لیے ہمیشہ سفارت کاری پر زور دیا لیکن شام کی تازہ صورت حال پر بات چیت کا وقت کل رات ہی ختم ہوگیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام پر حملہ انسانیت کے خلاف مظالم پر کیا گیا، امریکا شام کی حکومت کو کیمیائی حملے کرنے نہیں دے گا۔امریکی سفیر نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل شام میں کیمیائی حملے روکنے میں ناکام رہی ہے اور اس کی ناکامی کا ذمہ دار روس ہے، میری صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی ہے اگر شامی حکومت نے اپنے شہریوں پر پھر کیمیائی حملہ کیا تو امریکا شام کے خلاف دوبارہ کارروائی کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…