اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بڑی تباہی سے بچ گئی،چین کا بے قابو خلائی سٹیشن ٹکڑے ٹکڑے ہو کربحرالکاہل میں گر کر تباہ

datetime 2  اپریل‬‮  2018 |

بیجنگ(آن لائن)چین اور امریکہ سے موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ناکارہ چینی خلائی سٹیشن زمین کے فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی زیادہ تر بکھر گیا اور جنوبی بحرالکاہل میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرا۔چین کے انسانی خلائی انجینیئرنگ آفس نے بتایا کہ یہ زمین کی خلائی حدود میں گرینچ کے معیاری کے وقت کے مطابق رات 12 بج کر 15 منٹ (پاکستان میں صبح پانچ بج کر 15 منٹ) پر داخل ہوا۔تیانگونگ 1 نامی یہ مصنوعی سیارہ

چین کے پرعزم خلائی پروگرام کا حصہ تھا اور 2022 میں ایک انسان بردار سٹیشن قائم کرنے کے منصوبے کی پہلی کڑی۔آٹھ ٹن وزنی اس خلائی گاڑی کو سنہ 2011 میں مدار میں چھوڑا گیا تھا لیکن سنہ 2016 میں اس نے کام کرنا بند کر دیا۔خلائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی بحرالکاہل پر گرا ہے لیکن یہ ایک وسیع خطہ ہے۔ماہرین کو اس کے گرنے کی جگہ کے تعین میں مشکلات کا سامنا تھا اور چینی خلائی ایجنسی نے اس کے زمین کے فضائی حدود میں داخل ہونے سے ذرا قبل یہ بات کہی کہ یہ برازیل کے ساؤ پالو سے دور گرے گا جو کہ غلط اندازہ تھا۔یورپی سپیس ایجنسی نے پہلے ہی کہا تھا کہ تیانگونگ۔1 سمندر پر ٹوٹ کر بکھر جائے گا۔ اس نے کہا تھا کہ اس کے ملبے کا کسی شخص پر گرنے کا امکان کسی شخص کے آسمانی بجلی کی زد میں آنے سے ایک کروڑ گنا کم ہے۔بہر حال ابھی یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ کتنا ملبہ زمین پر سالم گرا ہے۔اصولی طور پر دس میٹر لمبے تیانگونگ کو مدار سے منصوبہ بند طریقے سے ہٹایا جانا چاہیے تھا۔ روایتی طور پر اس بڑی خلائی گاڑی پر تھرسٹر داغ کر اسے جنوبی سمندر کے دور دراز علاقے میں گرانا چاہیے۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کمانڈ کا رابطہ منقطع ہونے کے بعد وہاں یہ آپشن نہیں رہ گیا تھا۔یورپی سپیس اینجسی کی قیادت میں 13 سپیس ایجنسیاں راڈار اور دوربین کے ذریعے تیانگونگ کے گرنے کے عمل پر نظر رکھ رہے تھے۔دریں اثنا انڈیا کے خلائی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ تین روز پہلے خلا میں چھوڑی جانی والی خلائی سیٹیلائٹ سے ان کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ انڈین سپیس ریسرچ آرگینائزیشن (آئی ایس آر او) کا کہنا ہے کہ وہ جی ایس اے ٹی۔ 6 اے سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سیٹیلائٹ کا وزن دو ہزار ٹن ہے اور اسے انڈین ملٹری کے لیے بنایا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…