اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی برادری ایران پر سیاسی اور اقتصادی دبائو ڈالے تا کہ خطے میں عسکری مقابلے سے گریز کیا جا سکے،سعودی ولی عہد

datetime 30  مارچ‬‮  2018 |

واشنگٹن /ریاض(آئی این پی)سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر سیاسی اور اقتصادی دبائو ڈالے تا کہ خطے میں عسکری مقابلے سے گریز کیا جا سکے۔امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے بن سلمان کا کہنا تھا کہ پابندیوں سے ایران پر مزید دبائو پڑے گا۔سعودی ولی عہد نے واضح کیا کہ اگر ہم عسکری تنازع سے اجتناب میں کامیاب نہ ہو سکے تو غالب گمان ہے کہ آئندہ 10 سے 15 برسوں کے دوران ایران کے ساتھ جنگ میں کودنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے گزشتہ ہفتے وہائٹ ہاس میں شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی، وہ کئی مرتبہ خبردار کر چکے ہیں کہ وہ ایرانی جوہری معاہدے کو منسوخ کرنے کا سہارا لے سکتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی پالیسی کے سخت ترین مخالفین کو مختلف عہدوں پر مقرر کیا ہے۔ ان میں وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نمایاں ترین ہیں۔ تاہم امریکا کے یورپی حلیف ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ برقرار رکھنے کے لیے دبا ڈال رہے ہیں۔یمن کی جنگ کے بارے میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ ” اگر ہم 2015 میں مداخلت نہ کرتے تو یمن حوثیوں اور القاعدہ کے درمیان تقسیم ہو چکا ہوتا۔سعودی عرب یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کے خلاف آئینی حکومت کوسپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔بن سلمان کی امریکی اخبار کے ساتھ گفتگو حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت پر 7 بیلسٹک میزائل داغے جانے کے 3 روز بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی دفاعی نظام نے اتوار کے روز داغے جانے والے ان ساتوں میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا تھا۔ تباہ شدہ میزائل کے ٹکڑے لگنے سے مملکت میں مقیم ایک مصری باشندہ جاں بحق اور دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔بن سلمان نے حوثیوں کی جانب سے میزائلوں کے داغے جانے کو “کمزوری کی علامت” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ڈھیر ہونے سے پہلے انتہائی حد تک کارروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…