پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

امریکہ نے پاکستان کے اندر کارروائی کا امکان مسترد کردیا

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

واشنگٹن(آئی این پی) امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ امریکا ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتا کہ وہ افغانستان سے بھاگے ہوئے دہشتگردوں کے تعاقب میں پاکستان میں کوئی کارروائی کرے۔پینٹاگون ترجمان لیفٹننٹ کرنل مائک انڈریوس نے بھارتی اور افغان میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان ان عسکریت پسندوں کو اپنی سرحدی حدود میں رکھنا چاہتا ہے تو رکھے لیکن وہ افغانستان میں امن اور استحکام کو متاثر نہیں کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں کہ ہم پاکستان میں جائیں اور ہم نے پاکستان کی علاقائی خودمختاری کے احترام میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔پینٹاگون ترجمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی صرف افغان سرحد کے اندر ہی کام کرتے ہیں اور ان کے پاس سرحد پار کرنے کا اختیار نہیں اور اگر یہ اختیار حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ ہے تو وہ بہت ہی مخصوص حالات میں ہوگا اور لیکن وہ معمولی نہیں ہوگا۔لیفٹننٹ کرنل مائک انڈریوس نے بتایا کہ مخصوص حالات کا معمول کے آپریشن میں اطلاق نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے افغانستان میں موجود امریکی کمانڈرز کے لیے پاکستان کی سرحد پار کرنا عام دن کے آپریشنل قوانین کے مطابق نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر طالبان پاکستان میں رہتے ہیں اور ہم افغانستان کے صوبوں اور اضلاع کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو میرے خیال سے یہ وہ تجارت ہوگی جو ہم چاہتے ہیں اور یہ پاکستان میں موجود لوگوں کے لیے ضروری نہیں لیکن افغانستان کے عوام کے لیے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ رواں برس افغان فورسز کی توجہ اور طالبان کے قبضے میں موجود صوبوں کو واپس لینے پر مرکوز ہے اور جو کچھ پاکستان میں ہورہا، ہمار اس پر کوئی کنٹرول نہیں اور پاکستان کے عوام ہی اسے حل کرسکتے ہیں کیونکہ اب ہماری ساری توجہ افغانستان پر ہے۔پینٹاگون ترجمان نے کہا کہ امریکا کو امید تھی کہ پاکستان طالبان یا دیگر دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم پر امید ہیں کہ پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا کیونکہ یہ نہ صرف ہماری افغانستان بلکہ پاکستان، بھارت اور پورے خطے کو تحفظ دے گا۔لیفٹننٹ کرنل مائک انڈریوس کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کی سیکیورٹی امداد تب تک بحال نہیں کرے گا جب تک اسلام آباد واشنگٹن کے دہشتگردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق خدشات دور نہیں کرتا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حقانی نیٹ ورک، افغان طالبان اور دیگر گروپوں کی حمایت کا الزام لگا کر پاکستان کی ایک ارب ڈالر کی سیکیورٹی امداد معطل کردی تھی۔بریفنگ کے دوران کرنل اینڈریوس کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت پاکستان کے ساتھ بہت ایماندار رہی ہے جبکہ اسلام آباد کی بند امداد کو کھولنے کے لیے امریکی اقدامات سے قبل پاکستان کے مسائل سننے کے لیے امریکا نے بات چیت کے لیے تمام راستے کھولے رکھے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…