ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

امدادی سامان سے لدے 18 ہزار بحری جہاز یمنی بندرگاہوں پر لنگر انداز

datetime 1  مارچ‬‮  2018 |

جدہ(آن لائن)سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی  نے کہا ہے کہ امدادی سامان سے لدے 18 ہزار بحری جہاز یمن کی بندر گاہوں پر لنگر انداز ہوچکے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ عرب اتحادی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا عزم کررکھا ہے۔انھوں نے ایک نیوز کانفرنس میں عرب اتحاد کے یمن کے لیے انسانی امداد کے جامع منصوبے کے بارے میں بتایا ہے اور اس بات پر زوردیا ہے کہ عرب اتحاد تمام معیارات اور انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کررہا ہے۔

وہ یمن کے بعض میڈیا ذرائع میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق رپورٹس کا حوالہ دے رہے تھے۔ترجمان نے بتایا کہ یمنی بندرگاہوں پر پہنچنے والے امدادی سامان کی ترسیل کے لیے 22 ریلیف چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور عرب اتحاد کے انسانی امداد کے منصوبے کے تحت اب تک نو لاکھ 59 ہزار یمنیوں کو امداد ی سامان پہنچایا جاچکا ہے۔کرنل ترکی المالکی نے یمنی حکومت کے حوالے سے بتایا کہ اس نے میڈیا کے پیشہ ور حضرات کو یمن میں داخل ہونے سے نہیں روکا ہے بلکہ اس نے ان کے ملک میں داخلے کے عمل میں سہولتیں مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ یمنی حکومت نے دہشت گردوں کو کوئی رقم ادا نہ کرنے کا عزم کررکھا ہے۔انھوں نے حوثی جنگجوؤں پر زوردیا کہ انھیں بین الاقوامی قراردادوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا بچوں کو اسکولوں سے نکال کر جنگ میں جھونک رہی ہے۔انھوں نے یمن میں تاریخی عمارات اور آثار کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے اور ان کی اسمگلنگ کی روک تھام کی ضرورت پر زوردیا ہے۔کرنل ترکی المالکی نے اس نیوز کانفرنس میں سعودی عرب ،یمن سرحد کے نزدیک حوثی جنگجوؤں کے خلاف حملوں کی ویڈیوز اور تصاویر بھی دکھائی ہیں۔ان میں حوثی جنگجو بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے خفیہ کارروائیاں کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…