جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایران میں 18 سال سے کم عمر تین بچوں کو پھانسی کی سزا دی گئی: ہیومن رائٹس واچ

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

لند ن (آن لائن)انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سنہ 2018 کے آغاز کے بعد سے اب تک ایران میں کم ازکم تین مجرم بچوں کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ان تینوں نے قتل کا جرم 18 برس کی عمر سے قبل کیا تھا۔ ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں ایرانی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر بغیر کسی پیشگی شرط کے 18 سال سے کم عمر بچوں کو موت کی سزا نہ دیں اگروہ کسی کو قتل کر دیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ چار جنوری کو کاراج کی جیل میں حکام نے عامر حسین کو ایک تین سالہ بچی کے سے ’زیادتی اور قتل‘ کے جرم میں پھانسی دی۔ انھوں نے یہ جرم 16 سال کی عمر میں کیا تھا۔اسی طری 15 برس کی عمر میں قتل کرنے والے علی کاظمی کو بھی 30 جنوری کو بشہر جیل میں پھانسی دی گئی۔ہیومن رائٹس واچ نے مفیدی کی عم کی تصدیق ان کے آئی ڈی کارڈ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ سے کی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسی تاریخ کو شمالی ایران میں بوشہر نامی جیل میں محبوب موفیدی نامی لڑکی کو پھانسی دی گئی جنھوں نے سنہ 2014 میں اپنے شوہر کو قتل کیا تھا۔ اس وقت محبوب کی عمر 17 برس تھی۔مشرق وسطیٰ میں ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر سارہ لی وٹسن کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس منشیات سے متعلق جرائم میں موت کی سزا کے حوالے سے ایران کے اقدامات کا مثبت تاثر سنہ 2018 میں بچوں کو موت کی سزا کی وجہ سے تباہ ہو گیا ہیایران سعودی عرب اور یمن سمیت ان چند ممالک میں شامل ہے جو پانچ سال پہلے تک مجرم بچوں کو پھانسی کی سزا دیتے تھے تاہم پھر ایران بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن کا حصہ بنا جو بچوں کی پھانسی ممنوع قرار دیتا ہے۔ایران کے کریمینل ریکارڈ سے متعلق ترمیمی ایکٹ کے مطابق منشیات اور کچھ خاص قسم کے جرائم میں بچوں کو پھانسی کی سزا نہیں دی جاتی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سنہ 2015 میں ایران میں 567 افراد کو پھانسی کی سزا دی گئی جبکہ اس کے مقابلے میں سنہ 2015 میں 977 افراد کو پھانسی کی سزا دی گئی۔سعودی عرب اور چین کے علاوہ ایران وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ پھانسیاں دی جاتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…