جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان کی دلدل امریکہ کو لے ڈوبی،افغان جنگ پرامریکہ کا سالانہ 45ارب ڈالرز ہوگیا ،امریکی جریدے کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 7  فروری‬‮  2018 |

نیویارک ، کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں جاری جنگ کی امریکہ کے ٹیکس دھندگان کو ہر سال 45 ارب ڈالر قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور یہ جنگ مستقبل قریب میں ختم ہوتی نظر بھی نہیں آتی۔امریکی منتخب اراکین نے جنہیں افغانستان میں کامیابی حاصل کرنے کا یقین نہیں، گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان میں طویل ترین جنگ اور اس جنگ کو جس سمت میں لے جایا جا رہا ہے اس پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

افغانستان میں جنگ سترہویں برس میں داخل ہو گئی ہے اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا یہ اور کتنے سال جاری رہے گی۔امریکی ایوان بالا یعنی سینیٹ کی امور خارجہ سے متعلق کمیٹی میں کابل میں گزشتہ دنوں ہونے والے پے در پے حملوں جن میں دو سو افراد ہلاک ہو گئے تھے افغانستان جنگ کے بارے میں بات کی گئی۔ امریکی جریدے شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکہ کے محکمہ دفاع کے ایشیا کے بارے میں اعلی ترین اہلکار رینڈل شریور نے افغانستان میں امریکہ کے جنگی اخراجات کی تفصیل فراہم کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ارب ڈالر سالانہ افغان افواج کے لیے مختص ہیں اور تیرہ ارب ڈالر افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کے اخراجات ہیں۔ باقی اخراجات رسد پر آتے ہیں جبکہ افغانستان کی معاشی ترقی کے لیے اٹھہتر کروڑ ڈالر صرف کیے جاتے ہیں۔افغان جنگ سنہ دو ہزار دس اور سنہ دو ہزار بارہ میں جب اپنے عروج پر تھی اس وقت جنگی اخراجات اسے کہیں زیادہ تھے۔ اس دوران افغانستان میں امریکہ کے ایک لاکھ سے زیادہ فوجی تعینات تھے اور ان پر مجموعی طور پر ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ کے اخراجات آ رہے تھے۔ اس وقت مجموعی طور پر سولہ ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔امریکہ میں حزب اقتدار رپبلکن اور حزب اختلاف ڈیموکریٹ پارٹی دونوں جماعتوں کے ارکان افغان جنگ پر ہونے والے اخراجات پر بات کرتے رہے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے چھ ماہ قبل نے افغانستان کے بارے میں نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جنگ کا رخ موڑ دیں گے۔

لیکن انھوں نے کہ کہ وقت کا تعین نہیں کیا تھا کہ ایسا کرنے میں امریکی افواج کو کتنا وقت لگے گا اور وہ کب تک جنگ سے تباہ حال اس ملک میں موجود رہیں گے۔رپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے کہا کہ کروڑوں اربوں ڈالر ضائع کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ‘ہم ایک کھائی میں پھنس گئے ہیں اور اس سے نکلنے کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔‘صدر ٹرمپ نے افغانستان کے بارے میں نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جنگ کا رخ موڑ دیں گیڈیموکریٹک سینیٹر ایڈ مراکی نے تجویز دی کہ اس رقم کا بہتر استعمال منشیات کے عادی امریکی شہریوں کو بچانا ہے۔ انھوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغان جنگ پر ہونے والے صرف دو ماہ کے خرچے کو بچا کر امریکہ کی ہر کاونٹی میں منشیات سے بحال کا مرکز کھولا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…