جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دو بالغوں کی شادی میں ریاست اور پنچائت سمیت کوئی بھی مداخلت نہیں کر سکتا،بھارتی سپریم کورٹ

datetime 6  فروری‬‮  2018 |

نئی دہلی (اے این این ) بھارتی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کھاپ پنچایت یا کانگار عدالتیں معاشرے کی محافظ نہیں ہیں اور کسی کو بھی دو بالغوں کی شادی میں دخل اندازی کی اجازت نہیں۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی اعلی عدلیہ کی جانب سے اس طرح کے ریمارکس غیرت کے نام پر قتل کو روکنے کے حوالے سے ہدایات دینے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔

یہ درخواست 2010 میں بھارتی غیر سرکاری تنظیم شکتی واہینی کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ایک اور بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں قائم بینچ نے ریمارکس دیئے کہ جب دو بالغ شادی کرلیں تو کوئی تیسرا یہاں تک کہ ریاست بھی اس میں دخل اندازی نہیں کرسکتی۔سماعت کے دوران بینچ نے یہ واضح کیا کہ دونوں بالغ نوجوان لڑکے اور لڑکی کے والدین کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ ان کے درمیان مداخلت کریں یا انہیں دھمکیاں دیں۔جسٹس مرزا نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کون سی شادی ٹھیک ہے یا نہیں اور کونسی شادی اچھی ہے یا بری، ہمیں ان سب سے دور رہنا چاہیے، جب دو لوگ شادی کرلی اور وہ بالغ ہوں تو آپ کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔بھارتی اخبار کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے برادریوں کے درمیان شادی کرنے والے مرد اور عورت پر کھاپ پنچایت یا ان کے حامیوں کی جانب سے کسی بھی طرح کے حملے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔خیال رہے کہ پنچایت کو زیادہ تر گاؤں کے بزرگوں کی جانب سے چلایا جاتا ہے، اگرچہ یہ غیر قانونی ہے لیکن شمالی بھارت کے دیہی علاقوں میں اس کا کافی اثر و رسوخ ہے۔کھاپ پنچایت سماجی طور پر قدامت پسندی کی روایت روکنے اور جدیدیت کا مقابلہ کرنے کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں، جس کی مثال ان کی جانب سے خواتین پر جینز پہننے پر پابندی لگانا بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ پنچایت پر سنگین جرائم کے بھی الزامات لگتے ہیں، جس میں مذہب یا برادری سے باہر شادی کرنے والے جوڑوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کے الزامات شامل ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…