جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

دو بالغوں کی شادی میں ریاست اور پنچائت سمیت کوئی بھی مداخلت نہیں کر سکتا،بھارتی سپریم کورٹ

datetime 6  فروری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئی دہلی (اے این این ) بھارتی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کھاپ پنچایت یا کانگار عدالتیں معاشرے کی محافظ نہیں ہیں اور کسی کو بھی دو بالغوں کی شادی میں دخل اندازی کی اجازت نہیں۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی اعلی عدلیہ کی جانب سے اس طرح کے ریمارکس غیرت کے نام پر قتل کو روکنے کے حوالے سے ہدایات دینے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔

یہ درخواست 2010 میں بھارتی غیر سرکاری تنظیم شکتی واہینی کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ایک اور بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں قائم بینچ نے ریمارکس دیئے کہ جب دو بالغ شادی کرلیں تو کوئی تیسرا یہاں تک کہ ریاست بھی اس میں دخل اندازی نہیں کرسکتی۔سماعت کے دوران بینچ نے یہ واضح کیا کہ دونوں بالغ نوجوان لڑکے اور لڑکی کے والدین کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ ان کے درمیان مداخلت کریں یا انہیں دھمکیاں دیں۔جسٹس مرزا نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کون سی شادی ٹھیک ہے یا نہیں اور کونسی شادی اچھی ہے یا بری، ہمیں ان سب سے دور رہنا چاہیے، جب دو لوگ شادی کرلی اور وہ بالغ ہوں تو آپ کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔بھارتی اخبار کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے برادریوں کے درمیان شادی کرنے والے مرد اور عورت پر کھاپ پنچایت یا ان کے حامیوں کی جانب سے کسی بھی طرح کے حملے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔خیال رہے کہ پنچایت کو زیادہ تر گاؤں کے بزرگوں کی جانب سے چلایا جاتا ہے، اگرچہ یہ غیر قانونی ہے لیکن شمالی بھارت کے دیہی علاقوں میں اس کا کافی اثر و رسوخ ہے۔کھاپ پنچایت سماجی طور پر قدامت پسندی کی روایت روکنے اور جدیدیت کا مقابلہ کرنے کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں، جس کی مثال ان کی جانب سے خواتین پر جینز پہننے پر پابندی لگانا بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ پنچایت پر سنگین جرائم کے بھی الزامات لگتے ہیں، جس میں مذہب یا برادری سے باہر شادی کرنے والے جوڑوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کے الزامات شامل ہیں

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…