پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

دس میں سے ہر ساتواں افغان مہاجر دوبارہ فرار ہو رہا ہے،نارویجیئن ریفیوجی کونسل کے حیرت انگیزانکشافات، پاکستان کو اہم مشورہ دیدیا

datetime 4  فروری‬‮  2018 |

اوسلو(مانیٹرنگ ڈیسک)  بین الاقوامی امدادی ادارے نارویجیئن ریفیوجی کونسل (این آر سی) نے کہاہے کہ یورپ سے زبردستی واپس افغانستان بھیجے جانے والے افغان مہاجرین میں سے 72 فیصد شورش اور خانہ جنگی کے باعث دوبارہ اپنے وطن سے مہاجرت اختیار کر چکے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بین الاقوامی امدادی ادارے نارویجیئن ریفیوجی کونسل (این آر سی) نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا۔

اس ادارے کے مطابق افغانستان واپس روانہ کیے جانے والے مہاجرین ملک میں جاری شورش اور تشدد سے جان بچا کر دوبارہ وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔اس ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ زبردستی واپس افغانستان روانہ کیے جانے والے بہتر فیصد افغان مہاجرین ایک مرتبہ پھر اپنے ملک کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔نارویجیئن ریفیوجی کونسل نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کی سکیورٹی بہتر نہیں، اس لیے افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل روک دیا جائے۔افغان جنگ سے فرار، آگے کیا ہو گا؟ نامی اس رپورٹ میں مختف ممالک میں پناہ کی غرض سے فرار ہونے والے ایسے افغان باشندوں کا انٹرویو کیا گیا، جنہیں واپس افغانستان بھیج دیا گیا تھا۔ان میں سے بہتر فیصد ایسے تھے، جو واپس ملک لوٹ کر ایک مرتبہ پھر افغانستان سے فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔ ان میں متعدد ایسے افغان شہری بھی شامل ہیں، جو کم از کم تین مرتبہ افغانستان سے مہاجرت اختیار کر چکے ہیں۔ناورے کے امدادی ادارے این آر سی کے مطابق بے گھر ہونے والے تین چوتھائی گھرانوں کو مدد نہیں مل رہی ہے جبکہ دو میں سے ایک افغان باشندہ خوراک کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے۔گزشتہ صرف دو برسوں کے دوران ہی ایک ملین سے زائد افغان وطن چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق 2017میں اوسطا ہر روز بارہ سو افغان شہری مہاجرت اختیار کرتے رہے۔اس رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس وسطی ایشیائی ریاست کے پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک اور یورپی ملکوں کو افغان مہاجرین کی زبردستی ملک بدری کا سلسلہ ترک کر دینا چاہیے،واضح رہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ افغان شہری آباد ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…