پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ظہور اسلام کی ابتدائی مسجد جواثا کی ملبے کے نیچے سے دریافت،مسجد جواثا میں تاریخ اسلام کی دوسری نماز جمعہ ادا کی گئی تھی،حیرت انگیزانکشافات

datetime 30  جنوری‬‮  2018 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب میں موجود اسلام کے ابتدائی ادوار کی بیشتر مساجد جدید شکل میں موجود ہیں مگر حال ہی میں مشرقی سعودی عرب کے علاقے الاحساء سے ریت اور مٹی کے ملبے تلے دبی مسجد ’جواثا‘ کے کھنڈرات برآمد کئے گئے۔ یہ مسجد ریتلے طوفانوں کے باعث ایک عرصے سے غائب تھی۔مسجد جواثا کے بارے میں کہا جاتا ہے اس میں تاریخ اسلام کا دوسرا جمعہ ادا کیا گیا تھا۔ مختلف ادوار میں اس مسجد کی تعمیر نو اور مرمت کا کام بھی ہوتا رہا ہے مگر کچھ عرصے سے یہ مسجد ریت کے طوفان میں چھپ گئی تھی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ جامع مسجد جواثا‘ سنہ سات ھجری کو قبیلہ بنو عبد قیس نے تعمیر کی۔ اس مسجد کا شہرہ جب قرب وجوار میں پہنچا تو مسلمان دور دور سے اسے دیکھنے آتے۔ مگر اس کا اصل شرف اس میں دوسرے جمعہ کی ادائیگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسجد آج بھی سعودی عرب کی تاریخی سیاحتی اور ثقافتی پہچان بنی ہوئی ہے۔مسجد جواثا کی تعمیر نو میں اس کے چار مینار بنائے گئے۔ روشنی کا جدید انتظام کیا گیا اور دیگر سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔حال ہی میں مشرقی علاقے کے گورنر شہزادہ سعود بن نایف نے اس مسجد کا افتتاح کیا اور اس میں نئی ترامیم کے منصوبے پر کام شروع کیا گیا۔مسجد جواثا کی تعمیر نو سعودی عرب کے محکمہ سیاحت کی جانب سے کی گئی ہے۔ مسجد کی تعمیر اس کی پرانی مٹی کی بنیادوں پر عمل میں لائی گئی ہے۔ جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے یہ مسجد شمال مشرقی شہر الھفوف سے 17 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔سعودی مؤرخ الشیخ عبدالحمان الملا اپنی کتاب ’تاریخ ھجر‘ میں لکھتے ہیں کہ مسجد جواثاء کا بیشتر حصہ 1210ھ میں ریت اور مٹی تلے دب گیا تھا۔الاحساء کے نیشنل ٹورزم اتھارٹی کے ڈائریکٹر خالد الفریدہ نے بتایا کہ ماضی میں اس مسجد کی متعدد بار مرمت کی گئی۔ 1210ھ میں الشیخ احمد بن عمرآل ملا نے اس کی تجدید کی۔ اس پر جمی مٹی اور ریت ہٹائی اور اس کی حفاظت کے انتظامات کیے گئے۔تاہم سعودی محکمہ سیاحت نے 1400ھ میں اس کی تعمیر نو کی۔ اس کی دیواریں مٹی سے تیار کی گئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…