جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی کا شام کے علاقوں پر حملہ،دھمکیاں دینے کے بعد امریکہ کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا،ایک اور وارننگ جاری

datetime 22  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کی سنٹرل کمان کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے کہا ہے کہ ترکی نے ان کے ملک کو عفرین میں فوجی کارروائی کے بارے میں مطلع کردیا تھا اور یہ علاقہ شام میں امریکی فوج کے دائرہ کار میں نہیں آتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ شامی شہر منبج میں ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں انھیں مطلع نہیں کیا گیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ شام میں داعش کے خلاف جنگ ابھی جاری ہے اور عفرین میں ترکی کے آپریشن سے داعش کے خلاف کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دریں اثناء ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ کرد ملیشیا امریکی حمایت سے بھی ترکی کو شکست نہیں دے سکتی۔غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہاکہ ہمارے جنگی طیاروں نے شام میں کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اور اب وہاں بری فوج بھی کارروائی کررہی ہے، ہم ان کا پیچھا جاری رکھیں گے اور اس آپریشن کو جلد از جلد مکمل کریں گے۔کرد ملیشیا امریکی حمایت سے بھی ترکی کو شکست نہیں دے سکتی، کرد ملیشیا کی حمایت کرنے والوں سے بھی سختی سے نمٹا جائے گا۔ اس لئے ترکی میں رہنے والیکرد سڑکوں پر احتجاج سے باز رہیں۔دوسری جانب ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ ترکی سے ملحقہ شام کے علاقے عفرین میں کارروائی کا مقصد کرد جنگجوؤں کا انخلا اور شام کے اندر 30 کلو میٹر گہرا ’محفوظ زون‘ قائم کرنا ہے۔  امریکا کی سنٹرل کمان کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے کہا ہے کہ ترکی نے ان کے ملک کو عفرین میں فوجی کارروائی کے بارے میں مطلع کردیا تھا اور یہ علاقہ شام میں امریکی فوج کے دائرہ کار میں نہیں آتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ شامی شہر منبج میں ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں انھیں مطلع نہیں کیا گیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ شام میں داعش کے خلاف جنگ ابھی جاری ہے اور عفرین میں ترکی کے آپریشن سے داعش کے خلاف کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…