جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ فلسطین کیساتھ ایسا کریگا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا،پوری امت مسلمہ تڑپ اٹھی

datetime 17  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن (آن لائن)امریکہ نے فلسطین میں فلاحی منصوبوں کے لیے اقوام متحدہ کے ذریعے دی جانے والی ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی امداد روکنے کا اعلان کر دیا۔امریکہ نے اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کو 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد دینا تھی لیکن اب امریکہ صرف چھ کروڑ ڈالر دے گا۔یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ فلسطین کے اسرائیل کے ساتھ قیامِ امن کی اقدامات کو رد کرنے پر امریکہ امداد میں کمی کر

سکتا ہے۔اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کے مجموعی فنڈ میں سے 30 فیصد امریکہ امداد پر مشتمل ہے۔گذشتہ سال امریکہ نے اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کو 37 کروڑ ڈالر دے تھے۔اس سے پہلے فلسطین کے صدر محمود عباس نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے امن منصوبے پر شدید تنقید کی تھی۔انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے بعد سے وہ امریکی امن منصوبے کو قبول نہیں کریں گے۔فلسطینی صدر نے اسرائیل پر اوسلو معاہدے کو ختم کرنے کا الزام بھی عائد کیا، جس کے تحت قیامِ امن کے لیے بات چیت شروع ہوئی تھی۔امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان نے واضح کیا کہ اس کٹوتی کا مقصد ‘سزا’ دینا نہیں ہے بلکہ امریکہ فلاحی ایجنسی میں اصلاحات چاہتا ہے۔امریکی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘مزید بات چیت تک ساڑھے چھ کروڑ ڈالر روک لیے گئے ہیں۔’انھوں نے بتایا کہ ‘اب وقت ہے کہ دوسرے ممالک، جو کافی امیر بھی ہیں سامنے آئیں اور علاقائی سلامتی میں اپنا حصہ ڈالیں۔امریکہ کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھا کہ ‘امریکہ کو امداد کے بدلے، تعریف یا احترام نہیں ملتا ہے۔امریکہ نے اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کو گذشتہ

برس 37 کروڑ ڈالر دیے تھے جبکہ یورپی یونین نے امریکہ امداد کے مقابلے میں نصف رقم دی تھی۔اقوامتحدہ کی ایجنسی برائے ریلیف اینڈ ورک فلسطین میں تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر رقم خرچ کرتی ہے۔یو ایس ایڈ کے ذریعے امریکہ نے فلسطین کو 26 کروڑ ڈالر دیے۔دوسری جانب امریکہ اسرائیل کو ہر سال تین ارب ڈالر سے زیادہ رقم عسکری امداد کی مد میں دیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…