اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

جرمن چانسلر نے حکومت سازی میں ناکامی کا اعتراف کرلیا

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت کے قیام کے لیے جاری مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں اب بھی کئی بڑی مشکلات موجود ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق چانسلر میرکل کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب ان کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین، باویریا میں اپنی سسٹر جماعت کرسچن سوشل یونین کے ساتھ مل کر ملک کی دوسری سب سے بڑی جماعت

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ اتحادی حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ جمعرات کے روز ان مذاکرات کا آخری دور منعقد ہو رہا ہے اور کہا جا رہا تھا کہ جرمنی میں اتحادی حکومت کے قیام کے امکانات خاصے روشن ہیں۔گزشتہ شب مذاکرات کے بعد اپنے ایک بیان میں چانسلر میرکل نے کہا کہ مذاکرات کا ’ایک سخت دن‘ سامنے ہیں، جو رات گئے تک جاری رہ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قدامت پسند جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین مختلف معاملات پر تمام ممکنہ لچک دکھا کر ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوشش کرے گی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ملک کے لیے ’درست پالیسیوں‘ کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہے۔یہ بات اہم ہے کہ ستمبر میں جرمنی میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں چانسلر میرکل کی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور اسے ماضی کے انتخابات کے مقابلے میں خاصی نشستوں سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی تناظر میں میرکل نے ابتدا میں دو چھوٹی جماعتوں گرین پارٹی اور فری ڈیموکریٹک پارٹی کو ساتھ ملا کر حکومت سازی کی کوشش کی تھی، تاہم اس بابت مذاکرات ناکام رہے تھے۔اسی تناظر میں اب ملک کی دونوں بڑی جماعتیں ایک مرتبہ پھر مل کر حکومت سازی کی کوشش میں ہیں اور اگر یہ کوشش بھی ناکام رہی تو اس کا نتیجہ دوبارہ انتخابات کے انعقاد کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ایس پی ڈی کے رہنما مارٹن شْلس نے بھی مذاکرات کے

آخری مرحلے کے آغاز سے قبل کہا کہ ابتدائی مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں ’متعدد بڑی مشکلات‘ موجود ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں شریک جماعتوں کے درمیان متعدد امور پر اس حد تک اتفاق بھی ضرور ہے کہ ایک اتحادی حکومت کے قیام کے لیے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…