جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’یوم ثبت یعنی ہفتے کے روز بنی اسرائیل کیلئے دنیا داری ممنوع تھی قانون تعالیٰ کی خلاف ورزی پر عذاب نازل کر دیا گیا ‘‘ اسرائیلی پارلیمنٹ نے اب ہفتے کے روز کیلئے کیا قانون منظور کر لیاہے

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

تل ابیب(این این آئی)اسرائیلی پارلیمان میں ایک نیا قانون پاس کیا گیا ہے جو ہفتے کے روز کاروبار سے متعلق ہے۔ ہفتہ یہودیوں کے لیے مقدس دن ہے اور یوم السبت کہلاتا ہے۔ یہ نیا قانون پارلیمان کے سیکولر ارکان کے غم وغصے کا باعث بنا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی پارلیمان میں محض ایک ووٹ کی سبقت کے ساتھ منظور کیے جانے والے اس قانون کے تحت

ملکی وزیر داخلہ کو اْن میونسپل قوانین کو منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے جن کے تحت لوکل کونسلیں اپنے علاقوں میں ہفتے کے روز دکانوں اور ریستورانوں کو کھولنے کی اجازت دے سکتی ہیں۔ اسرائیلی پارلیمان نے اس قانونی بِل کو 57 کے مقابلے میں 58 ووٹوں سے منظور کیا۔اسرائیل میں یہودیوں کی ملکیت میں قائم زیادہ تر دکانیں اور سپر مارکیٹیں یوم السبت کو بند رہتی ہیں۔ تاہم بعض دکانیں کھلی بھی رہتی ہیں تاہم ان کی تعداد متعلقہ علاقے کے مذہبی نظریات کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اس دن کا دورانیہ جمعہ کے روز سورج ڈوبنے سے شروع ہو کر ہفتے کے روز کا سورج ڈوبنے تک ہوتا ہے۔اسرائیل کی انتہائی قدامت پسند جماعت شَس سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ آریے دری کی طرف سے پیش کردہ اس قانونی بل کی منظوری کے بعد اب اس کا اطلاق نئے قائم ہونے والے کاروباروں پر ہو گا تاہم موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔شَس اور ایک اور انتہائی قدامت پسند سیاسی جماعت کی طرف سے ہفتے کے روز کاروباری سرگرمیاں ختم کرنے کی یہ کوشش اسرائیلی پارلیمان میں اکثریت رکھنے والی سیکولر یہودی اکثریت کے غم و غصے کا باعث بنی ہے تاہم ان جماعتوں نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو دھمکی دی تھی کہ اگر یہ قانون پاس نہ ہوا تو وہ اتحادی حکومت سے الگ ہو جائیں گی اور ایسی صورت میں اتحادی حکومت کو پارلیمان میں حاصل اکثریت

ختم ہو جاتی۔اس قانونی بِل پر کامیاب ووٹنگ دراصل ان قراردادوں میں سے تازہ ترین ہے جو دائیں بازو کے اتحادی ارکان کی طرف لائی جاتی رہی ہیں اور جنہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ حکومت کو پارلیمان میں حاصل انتہائی کم اکثریت کے سبب وہ حکومت پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…