بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

’’یوم ثبت یعنی ہفتے کے روز بنی اسرائیل کیلئے دنیا داری ممنوع تھی قانون تعالیٰ کی خلاف ورزی پر عذاب نازل کر دیا گیا ‘‘ اسرائیلی پارلیمنٹ نے اب ہفتے کے روز کیلئے کیا قانون منظور کر لیاہے

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

تل ابیب(این این آئی)اسرائیلی پارلیمان میں ایک نیا قانون پاس کیا گیا ہے جو ہفتے کے روز کاروبار سے متعلق ہے۔ ہفتہ یہودیوں کے لیے مقدس دن ہے اور یوم السبت کہلاتا ہے۔ یہ نیا قانون پارلیمان کے سیکولر ارکان کے غم وغصے کا باعث بنا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی پارلیمان میں محض ایک ووٹ کی سبقت کے ساتھ منظور کیے جانے والے اس قانون کے تحت

ملکی وزیر داخلہ کو اْن میونسپل قوانین کو منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے جن کے تحت لوکل کونسلیں اپنے علاقوں میں ہفتے کے روز دکانوں اور ریستورانوں کو کھولنے کی اجازت دے سکتی ہیں۔ اسرائیلی پارلیمان نے اس قانونی بِل کو 57 کے مقابلے میں 58 ووٹوں سے منظور کیا۔اسرائیل میں یہودیوں کی ملکیت میں قائم زیادہ تر دکانیں اور سپر مارکیٹیں یوم السبت کو بند رہتی ہیں۔ تاہم بعض دکانیں کھلی بھی رہتی ہیں تاہم ان کی تعداد متعلقہ علاقے کے مذہبی نظریات کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اس دن کا دورانیہ جمعہ کے روز سورج ڈوبنے سے شروع ہو کر ہفتے کے روز کا سورج ڈوبنے تک ہوتا ہے۔اسرائیل کی انتہائی قدامت پسند جماعت شَس سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ آریے دری کی طرف سے پیش کردہ اس قانونی بل کی منظوری کے بعد اب اس کا اطلاق نئے قائم ہونے والے کاروباروں پر ہو گا تاہم موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔شَس اور ایک اور انتہائی قدامت پسند سیاسی جماعت کی طرف سے ہفتے کے روز کاروباری سرگرمیاں ختم کرنے کی یہ کوشش اسرائیلی پارلیمان میں اکثریت رکھنے والی سیکولر یہودی اکثریت کے غم و غصے کا باعث بنی ہے تاہم ان جماعتوں نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو دھمکی دی تھی کہ اگر یہ قانون پاس نہ ہوا تو وہ اتحادی حکومت سے الگ ہو جائیں گی اور ایسی صورت میں اتحادی حکومت کو پارلیمان میں حاصل اکثریت

ختم ہو جاتی۔اس قانونی بِل پر کامیاب ووٹنگ دراصل ان قراردادوں میں سے تازہ ترین ہے جو دائیں بازو کے اتحادی ارکان کی طرف لائی جاتی رہی ہیں اور جنہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ حکومت کو پارلیمان میں حاصل انتہائی کم اکثریت کے سبب وہ حکومت پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…