جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

اربوں ڈالرز کا اسلحہ فروخت کرنے کیلئے امریکہ کا خطرناک ترین منصوبہ سامنے آگیا، پوری دنیا میں آگ لگانے کی تیاریاں،چونکا دینے والے انکشافات

datetime 9  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکہ میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے ’’امریکی چیزیں خریدو‘‘ کے نام سے اپنی نئی حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ اب دنیا بھر میں موجود امریکی سفارتخانوں میں اپنے ملٹری اتاشیوں اور سفارتکاروں کو زور دے گی کہ وہ امریکی ہتھیاروں کی دنیا بھر میں فروخت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں اور اس کیلئے اْنہیں اپنے معمول کے فرائض سے آگے بڑھ کر کوششیں کرنا ہوں گی۔امریکی ٹی وی کے مطابق توقع ہے کہ صدر ٹرمپ آئیندہ فروری میں امریکی اسلحے کی برآمدات

میں نرمی کی نئی پالیسی کا اعلان کریں گے۔ ان برآمدات میں لڑاکا جہازوں، ڈرون، جنگی جہازوں اور گولہ بارود تک تما م قسم کا اسلحہ شامل ہو گا۔اس حکمت عملی کا مقصد صدر ٹرمپ کے انتخابی وعدے کو پورا کرنا ہے جس میں اْنہوں نے بیرون ملک امریکی سازوسامان کی فروخت بڑھا کر امریکیوں کیلئے روزگار میں اضافے اور چھ برس سے جاری 50 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔امریکی دفاعی کنٹریکٹرز ٹرمپ انتظامیہ کو چین اور روس کی طرف سے مقابلے بازی کے حوالے سے بھی خبردار کر رہے ہیں۔ تاہم اسلحے کی بیرون ملک فروخت کیلئے برآمدات میں نرمی کرنے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی اور ہتھیاروں میں کمی پر زور دینے والے گروپ اس بات کے خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکی اسلحے کی فروخت میں خطیر اضافے سے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں کشیدگی کا ماحول بڑھ سکتا ہے اور اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ مختلف ملکوں کو فروخت ہونے والے امریکی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جائیں۔ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی ہتھیاروں کی فروخت پر پابندیاں نرم کرنے سے نان۔ نیٹو اتحادیوں اور دیگر شراکت داروں کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے سے اربوں ڈالر کمائے جا سکیں گے اور امریکیوں کیلئے روزگار میں اضافہ ہو گا۔ اس عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’’ہم امریکی کمرشل اور ملٹری اتاشیوں کو اسلحہ کی فروخت کیلئے سیلزمین کا کردار ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ پینٹاگون اور امریکی محکمہ خارجہ کو ہتھیاروں کی بیرون ملک فروخت کا پابند بنانے سے لاک ہیڈ مارٹن اور بوئینگ کمپنی جیسے بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کو زیادہ فائدہ ہو گا۔



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…