اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

بھارت کی روسی ساختہ ایٹمی آبدوز حادثے کا شکار

datetime 9  جنوری‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارت کی روسی ساختہ جوہری آبدوز حادثے کا شکار ہونے کی وجہ سے گزشتہ 10 مہینوں سے غیر فعال ہے جس کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا بھارتی اخبار کے مطابق جوہری آبدوز آئی این ایس اریہانت کو بھارتی نیول عملے کی لاپرواہی سے نقصان پہنچا اور کئی مہینوں سے اس کی مرمت کا کام جاری ہے ۔بھارتی نیوی کے ذرائع نے بتایا کہ جوہری آبدوز کے عملے کی لاپرواہی سے آبدوز کا دروازہ کھولا رہنے سے پانی اندر داخل ہوگیا اور تکنیکی خرابی کا شکار ہوگئی تھا۔

دوسری جانب بھارتی وزارت دفاع نے مذکورہ واقعہ پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔بھارتی اخبار نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی واحد جوہری آبدوز کو ایڈونس ٹیکنالوجی ویسل پروجیکٹ کے تحت تعمیر کیا گیا تھا اور آبدوز میں پانی داخل ہونے والے حادثے کے وقت وہ سطح سمندر پر موجود تھی تاہم حادثے کے بعد سے آبدوز کی صفائی کا کام جاری ہے۔بھارتی نیول ذرائع نے دی ہندو کو بتایا کہ صفائی کے علاوہ آبدوز کے متعدد پائپ کاٹ کر نئے لگائے جانے کا عمل جاری ہے جو مشکل ترین کام ہے۔بھارتی اخبار کے مطابق جوہری آبدوز این ایس اریہانت سے قبل نیوی کی ایک اور آبدوز آئی این ایس چکرہ کے نچلے حصے میں نصب تارپیڈو ٹیوبز بری طرح سے متاثر ہوئے تھے۔آئی این ایس چکرا کو روس سے دس سالہ لیز پر حاصل کیا گیا ہے جس سے بھارتی بحریہ ایٹمی توانائی سے چلنے والے جہازوں پر تربیت آپریشنز کی مشقیں کی جاتی ہیں۔اخبار میں کہا گیا کہ آئی این ایس اری ہانت جوہری آبدوز کا معاملہ اس وقت سیاسی منظر نامے پر آیا جب چین اور بھارت کے مابین ڈوکلم تنازع اٹھا تھا۔اخبار کے مطابق جب کبھی اس نوعیت کا تنازع ہوتا ہے تو ممالک احتیاطی رویہ اختیار کرتے ہوئے آبدوز کی تعیناتی پر فوری غور کرتے ہیں۔واضح رہے کہ فروری 2014 کو بھارتی آبدوز میں آتشزدگی سے دو اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈی کے جوشی نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…