منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب، عالمی عدالت نے اہم فیصلہ کر لیا

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

دی ہیگ(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی عدالت جرائم نے افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا فیصلہ کرلیا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق ہیگ میں عالمی عدالت برائے جرائم کی وکیل استغاثہ کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں جنگی جرائم کے الزامات کی باقاعدہ تحقیقات شروع کرنے کی اجازت طلب کرنے جا رہی ہیں۔فات بنسودا نے ایک بیان میں کہا کہ یہ یقین کرنے کے لیے معقول بنیاد موجود ہے کہ جنگی جرائم اور انسانیت کے

خلاف جرائم” کا ارتکاب ہوا۔تاہم انھوں نے یہ واضح طور پر کسی خاص فریق کے خلاف تحقیقات کا تذکرہ نہیں کیا۔بنسودا نے بیان میں کہا کہ “میں تحقیقات شروع کرنے کے لیے عدالتی اجازت نامہ حاصل کرنے کی درخواست کروں گی۔۔۔ابتدائی طور پر پیچیدہ جانچ پڑتال کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ وہ تمام قانونی تقاضے پورے ہو رہے ہں جو ایسی تحقیقات شروع کرنے کے لیے ضروری ہیں۔گزشتہ سال بھی بنسودا نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ایسے ابتدائی جواز موجود ہیں جن کی بنیاد پر کہا تھا جا سکتا ہے کہ امریکی فورسز افغانستان میں جنگی جرائم کی مبینہ طور پر مرتکب ہوئی اور امریکی خفیہ ایجنسی ‘سی آئی اے’ نے بھی 2003 اور 2004 میں اپنے خفیہ حراستی مرکز میں ایسے ہی جرائم کا ارتکاب کیا۔واشنگٹن بنسودا کے ان دعوں کو یہ کہہ کر مسترد کر چکا ہے اس کی طرف سے کیے گئے اقدام میں سے کسی کی بھی تحقیقات “غیر ضروری اور غیر موزوں” ہوں گی۔امریکہ نے اس عدالت کے قیام کی میثاق پر دستخط نہیں کیے جس کی وجہ سے اگر امریکی فوجیوں پر جنگی جرائم کا الزام عائد بھی کیا جاتا ہے تو وہ اس عدالت کے دائرہ کار کو شاید تسلیم نہ کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…